پسٹوریئس ارادی قتل کے الزام سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پسٹوریئس کے خلاف مقدمہ رواں سال تین مارچ کو شروع ہوا تھا اور اس دوران 37 افراد نے گواہی دی

جنوبی افریقہ میں جج نے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو اپنی ساتھی کے قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ آسکر پسٹورئیس کو قتل کے تمام الزامات سے تو بری کر دیا گیا ہے لیکن جج کا اپنے تفصیلی فیصلے میں کہنا تھا کہ پسٹورئیس کو غیر ارادی قتل کرنے میں قصوروار ٹہرایا جا سکتا ہے۔

جج تھوكوسیل ماسيپا نے جمعرات کو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوۓ کہا کہ استغاثہ یہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ پسٹورئیس نے جان بوجھ کر اپنی گرل فرینڈ کو باتھ روم میں قتل کیا۔ جج کا کہنا تھا کہ ملزم کو پہلے سے پتا نہیں چل سکتا تھا کہ باتھ روم کے دروازے کے پیچھے کون ہے۔

اس بات کا فیصلہ مختصر عدالتی وقفے کے بعد کیا جاۓ گا، کہ پسٹوریئس کو غیر ارادی قتل کے الزام میں قصوروار ٹہرایا جاتا ہے یا نہیں۔

پسٹوريئس پر الزام تھا کہ انھوں نےگذشتہ سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر 29 سالہ ریوا سٹین کیمپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

آسکر پسٹوریئس ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس خیال سے گولی چلائی کہ ان کےگھر میں کوئی گھس آیا ہے۔

جج تھوكوسیل ماسيپا نے جمعرات کو اس مقدمے کا فیصلہ سنانا شروع کیا ہے اور ابتدا میں کہا ہے کہ انسانوں سے غلطی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ انھوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں یا انسانی چیخیں نہ سنی ہوں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد پسٹوریئس کے خلاف قتلِ عمد کا الزام ثابت ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ان پر یہ الزام ثابت ہوتا ہے تو انھیں 25 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جج پسٹوریئس کو قتلِ خطا کا مجرم قرار دے سکتی ہیں جس کے لیے انھیں طویل مدت کے لیے جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

جب عدالت میں جج نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو کٹہرے میں موجود پسٹوریئس آبدیدہ ہوگئے۔

جسٹس ماسیپا کا کہنا ہے کہ وکیلِ صفائی کے یہ دعوے کہ پولیس نے ثبوتوں سے چھیڑچھاڑ کی اور جائے وقوعہ سے اشیا ہٹائیں’غیر اہم ثابت ہوئے۔‘

انھوں نے بظاہر ریوا سٹین کیمپ کی چیخیں اور گولیاں چلنے کی آوازیں سننے والے کئی گواہان کی صداقت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’ان میں سے بیشتر حقائق کا صحیح ادارک نہیں کر سکے۔‘

جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت آسکر پسٹوریئس اور ان کی ساتھی کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں استنباد کرنے یا منطقی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات ’بہت خراب تھے۔‘

پسٹوریئس پر عوامی مقام پر گولی چلانے کے دو معاملات اور غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات پہلے ہی ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔

گزشتہ ماہ ان کے وکیل بیری ركس نے حتمی دلائل میں کہا تھا کہ ان کے موکل کو ایک ریستوران میں غلطی سے گولی چلانے کا مجرم پایا جا سکتا ہے جس اس کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

پسٹوریئس کے خلاف مقدمہ رواں سال تین مارچ کو شروع ہوا تھا اور اس دوران 37 افراد نے گواہی دی۔ اس مقدمے کی کارروائی ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تھی۔

اسی بارے میں