سکاٹ لینڈ نئی تاریخ رقم کرنے والا ہے: سیمنڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکاٹ کے وزیر اعلیٰ ایلکس سیمنڈ کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی تاریخ میں یہ انتہائی اہم موڑ ہے

سکاٹ لینڈ کے وزیراعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں فیصلہ دے کر عوام نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے لیے منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلیکس سیمنڈ نے ریفرینڈم کو سکاٹش عوام کو بااختیار بنانے کا عمل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ اب دوبارہ خوداعتمادی اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بن رہا ہے۔

بدھ کے روز برطانیہ کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے سکاٹش عوام سے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں فیصلہ دینے کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعظم کیمرون نے ایڈنبرا میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ ہوگیا تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘

راۓ عامہ کے حالیہ جائزے کے مطابق اس وقت برطانیہ کے ساتھ رہنے والی مہم کو آزاد سکاٹ لینڈ کی مہم پر معمولی سبقت حاصل ہے۔ اس سے قبل ہونے والی دو جائزوں کے مطابق ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کے درمیان مقابلہ برابر اور انتہائی سخت تھا۔

ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر کانٹے کا ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

11 ستمبر 1997 یعنی آج سے ٹھیک 17 برس قبل سکاٹ لینڈ کے عوام نے اختیارات کی تقسیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے نتیجے میں تین سو سال کے طویل عرصے کے بعد سکاٹش پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ایلیکس سیمنڈ کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے عوام ’ہاں‘ مہم کا ساتھ دیں گے، کیونکہ ’نہیں‘ مہم کے خالی وعدے اب سکاٹش عوام کو مزید دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ سے آزادی کے مخالفین میں کمی آ رہی ہے کیونکہ ’ہاں‘ مہم سکاٹ لینڈ کو خوشحال بنانے کے لیے زندگی میں ایک ہی بار ملنے والا موقع ہے۔

مسٹر سیمنڈ کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے باسیوں سے زیادہ کوئی اور بہتر طریقے سے سکاٹ لینڈ کو نہ تو چلا سکتا ہے اور نہ سکاٹش عوام کی خواہشات کو سمجھ سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام دنیا کی نظریں اس وقت سکاٹ لینڈ پر ہیں۔

اسی بارے میں