صارفین کا ڈیٹا نہ دینے پر جرمانے کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاہو کے جنرل کونسل ران بیل کا کہنا ہے کہ اس مواد کی اشاعت شفافیت کی جیت کے لیے انتہائی اہم ہے

سرچ انجن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے اسے صارفین کا ڈیٹا مہیا نہ کرنے کی صورت میں ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کے ادارے نے یاہو سے نگرانی کے نئے اصولوں کے تحت یہ مطالبہ کیا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ غیر آئینی ہے۔

تاہم جمعرات کو وفاقی جج کے حکم پر اس مقدمے سے متعلق بعض مواد عام کیا گیا۔

یاہو عدالت میں حکومت کے اس حکم کی غیر آئینی قرار دینے میں ناکام رہا۔

تاہم یاہو کے جنرل کونسل ران بیل کا کہنا ہے کہ اس مواد کی اشاعت شفافیت کی جیت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

یاہو کا کہنا ہے کہ ایک عدالتی حکم کے بعد صارفین کی آن لائن سرورسز سے متعلق معلومات کے حصول کی غرض سے حکومت نے قانون میں ترمیم کی ہے۔

این ایس اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے امریکی نگرانی کا پروگرام گذشتہ برس منکشف کر دیا تھا۔

اس مقدمے سے متعلق مواد پہلے واشنگٹن پوسٹ میں شائع کیا گیا۔

یاہو کے جنرل کونسل ران بیل کا مزید کہنا تھا کہ ’ ایک موقع پر امریکی حکومت نے ہمیں دھمکی دی کہ اگر ہم نے انہیں معلومات نہیں دیں گے وہ ہمیں یومیہ ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانہ کریں گے۔‘

عدالت کی جانب سے مقدمے سے متعلق 1500 صفحات کی دستاویز عام کی گئی۔

اسی بارے میں