دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد اندازے سے تین گنا زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نئی تعداد جون کے بعد دولتِ اسلامیہ میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا نتیجہ ہے: سی آئی اے

امریکہ کے خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم سنّی شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد ماضی کے اندازوں سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

خفیہ ادارے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مئی سے اگست کے دوران خفیہ اطلاعات کے تجزیوں کے بعد یہ تعداد 31 ہزار تک ہو سکتی ہے۔

ادھر امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف ممکنہ عالمی عسکری کارروائی کے لیے ریٹائرڈ جنرل جان ایلن کو رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے عراق میں وسیع علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس نے دو امریکی صحافیوں سمیت متعدد افراد کے سر قلم بھی کیے ہیں جن کے بعد امریکہ کی جانب سے اسے فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری آج کل دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مشرقِ وسطی اور عرب ممالک کے دورے پر ہیں۔

ان کے اس دورے کے دوران جمعرات کو ہی سعودی عرب سمیت دس ممالک نے دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عراق اور شام میں فوجی کارروائیاں کرنے کے لیےامریکہ کے ساتھ تعاون پر اتفاقکیا ہے۔

کیری جمعے کو ترکی جا رہے ہیں جس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کے اعلان پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ مبصرین اس فیصلے کی وجہ شدت پسند گروپ کی جانب سے سفارتکاروں سمیت 49 ترک باشندوں کو یرغمال بنانا قرار دے رہے ہیں۔

سی آئی اے کے ترجمان رائن تراپانی کا کہنا ہے کہ ادارے کے سابقہ اندازوں کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے ارکان کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق میں حکومتی فوجیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کیا ہے

انھوں نے کہا کہ ’یہ نئی تعداد جون کے بعد دولتِ اسلامیہ میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا نتیجہ ہے اور اس کی وجہ خلافت کا اعلان اور حکومتی افواج کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابی ہو سکتی ہے۔‘

امریکی خفیہ ادارے کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافے کا اندازہ صدر براک اوباما کی جانب سے اس گروہ کے خلاف کارروائی کی حکمتِ عملی کے اعلانکے ایک دن بعد ہی سامنے آیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت امریکی صدر نے عراق کی طرح پہلی مرتبہ شام میں بھی شدت پسند گروہ کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

روس کی جانب سے امریکہ کے شام میں کارروائی کرنے کے اعلان کی مذمت کی گئی ہے اور کہا ہے کہ شام میں جنگجوؤں کے خلاف اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کیے بغیر کسی قسم کی امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی اور کھلی جارحیت ہو گی۔

حالیہ مہینوں میں دولتِ اسلامیہ نے شام کے مشرقی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے جبکہ عراق میں مزید قصبات، فوجی اڈوں اور ہتھیاروں پر قبضہ کیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے رواں برس جون میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور گروپ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا گیا تھا۔

امریکہ عراق میں پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف 150 سے زیادہ فضائی حملے کر چکا ہے اور اس نے عراقی حکومت اور کرد فورسز کی مدد کے لیے سینکڑوں عسکری مشیر بھی بھیجے ہیں تاہم وہ اس کارروائی میں اپنی زمینی فوج نہیں بھیجنا چاہتا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد ممکنہ عالمی عسکری کارروائی کے لیے جنرل ریٹائرڈ جان ایلن رابطہ کاری کے فرائض سرانجام دیں گے۔

جنرل جان ایلن ماضی میں عراق اور افغانستان میں تعینات رہ چکے ہیں اور وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ اتحادی ممالک میں سے کون کتنی رقم، لاجسٹک امداد، تربیت اور اسلحہ دے گا۔

جان ایلن نے آٹھ برس قبل عرب ممالک کی مدد سے عراق میں القاعدہ کے خلاف سنّی مزاحمتی تحریک کی مدد کی تھی۔

اسی بارے میں