برطانوی مغوی کے اہلِ خانہ کی شدت پسندوں سے رابطے کی اپیل

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے مغوی برطانوی شہری کے اہلِ خانہ نے شدت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں۔

ڈیوڈ ہینز کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صحافیوں کو ہلاک کرنے والے شدت پسند ان کے پیغامات کا جواب نہیں دے رہے۔

پرتھ سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ ہینز گذشتہ برس شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں انھیں ہلاک کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں شدت پسندوں کو براہِ راست مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’ہم ڈیوڈ ہینز کے اہلِ خانہ ہیں۔ ہم نے آپ کو کئی پیغامات بھیجے جن کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ہم ڈیوڈ کو پکڑنے والے افراد سے کہہ رہے ہیں کہ ہم سے رابطہ کریں۔‘

دولتِ اسلامیہ نے دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر امریکی حملے نہ رکے تو وہ ڈیوڈ کو مار دیں گے۔

یہ دھمکی ایک آن لائن ویڈیو میں دی گئی تھی جس میں امریکی صحافی سٹیفن سوتلوف کی ہلاکت کو دکھایا گیا تھا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی حکومت ہینز کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں