مشرق سے ابھرتی طاقت

شنگھائی تعاون کونسل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرق میں بننے والا یہ اتحاد کچھ لوگوں کے خیال میں نیٹو کا نعم البدل ہے۔

چند دن قبل ویلز کے سر سبز و شاداب گلف کورس میں صدر اوباما نیٹو ممالک کے دوست احباب کے ساتھ کھڑے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک نئے اتحاد کی تشکیل کی بات کر رہے تھے۔

اس کے بعد جس دن انھوں نے دولت اسلامیہ کے بارے میں اپنی حکمت عملی کو اعلان کیا تو شنگھائی تعاون کونسل کے نام سے قائم ایک اور اتحاد کے ملکوں کے سربراہ دشمبے کے صدارتی محل میں جمع تھے۔

تاجکستان کے دارالحکومت میں جمع شنگھائی تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے سربراہوں میں کچھ ایسے ملک بھی شامل تھے جو عراق اور شام کے متعلق واشنگٹن کی حکمت عمل کو کامیاب بھی بنا سکتے ہیں اور ناکام بھی۔

مشرق میں بننے والا یہ اتحاد کچھ لوگوں کے خیال میں نیٹو کا نعم البدل ہے۔

مبصر ملکوں کا درجہ رکھنے والے ایران، بھارت اور پاکستان اس کونسل کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے بیتاب ہیں۔ شنگھائی کارپوریشن کونسل کے نام سے یہ اتحاد 13 برس قبل روس اور چین نے وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دشمبے میں تاجک خواتین نے روسی صدر وِلادیمیر پوتن کا خیر مقدم کیا

اور اب تو نیٹو کا ایک رکن ملک ترکی بھی اس تنظیم کے ’مذاکراتی شریک‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ ماضی میں مغرب سے ترکی کے قریبی راوبط کی وجہ سے اسے شریک نہیں کیا گیا تھا اور پھر صدر اسد کے باغیوں کی ترکی امداد بھی کرتا رہا ہے۔

تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ پرویز دولتزادہ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ یہ سربراہی اجلاس دشمبے کو دنیا کا ’جیوپولیٹکل سینٹر‘ بنا دے گا۔

روس کے صدر ولادمیر پوتن اور ایران کے حسن روحانی یقینی طور پر کچھ معاملات میں مشترکہ مقاصد کا تعین کر لیں گے۔ ان دونوں ملکوں کو اس وقت عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔ روس کو یوکرین کی وجہ سے اور ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے۔

دونوں ملک شام میں صدر بشار الاسد کے حامی ہیں اور ان ہی ملکوں کی اہم امداد کی وجہ سے صدر اسد اپنے مخالفین کے مقابلے میں اب تک کھڑے ہیں۔

دونوں ملک صدر اوباما کی شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی بات پر شاد ہوں گے۔ واشنگٹن کی صدر اسد کی اقتدار سے علیحدہ ہونے کی رٹ اب ختم ہو گئی ہے جس پر دمشق، ماسکو اور تہران نے کبھی کان نہیں دھرے۔

صدر اسد کا مستقل اب بھی اہم سوال ہے۔ مغرب اور اس کے عرب اتحادی اب بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھاکانوں پر بمباری سے شام کی حکومت کو کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ اس کے متعدد مخالفین اس سے فائدہ اٹھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق اور شام میں دولتِاسلامیہ سے خطرے نے امریکہ اور ایران کو ایک مشترکہ کاز مہیا کرا دیا ہے۔

عراق میں ایران اور امریکہ دونوں ہی دولت اسلامیہ کے مخالف ہیں گو کہ ایران نے بی بی سی فارسی سروس کی اس خبر کی تردید کر دی ہے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمنہ ای نے امریکہ اور کرد باغیوں کے ساتھ پاسداران انقلاب کو عملی تعاون کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سنہ 2001 میں جب سنگھائی فائیو کے نام سے یہ تنظیم بنائی گئی تو خطے کی سلامتی، سرحدی تنازعات سمیت، دہشت گردی اور اسلامی انتہا پسند اس کے بنانے کی بنیادی وجوہات تھیں۔

اب اس تنظیم میں شامل ملک دنیا کی آدھی آبادی پر مشتمل ہیں۔

اس کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟ نیٹو کے برخلاف یہ کوئی فوجی اتحاد نہیں گو کہ اس کے رکن ممالک نے ماضی میں مشترکہ جنگی مشقیں کی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے جو اس سربراہی اجلاس کے بعد ایس سی او کی صدارت سنبھالیں گے اپنے ایک طویل بلاگ میں لکھا ہے کہ وہ ایس سی او میں شامل ملکوں کو نئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلح کرنے اور خطے اور دنیا میں رونما ہونے والے واقعات سے بہ احسن نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر توجہ دیں گے۔

نیٹو پر طعنہ زنی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایس سی او اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گا اور ان آثارِ قدیمہ کی طرح نہیں ہو گا جو کچھ خاص ملکوں اور بلاکس کے چنگل میں جکڑے ہوئے ہیں۔

لیکن ایس سی او کو اپنے بھی کئی اندرونی مسائل سے نمٹنا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ملکوں کا یوکرین کے بارے میں روسی حکمت عملی پر اپنا الگ موقف ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔

خطے میں تجارتی سرگرمیاں ترجیحات میں سے ایک ہیں لیکن معیشت بھی سیاست سے بچ نہیں سکتی۔ روس اور ایران مال کے بدلے مال کے اصول کے تحت تیل کی تجارت کرنا چاہتے ہیں اور اقتصادی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی تیل اور روسی گندم کی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں