اگر سکاٹ لینڈ آزاد ہوگیا تو؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عالمی میڈیا سکاٹش ریفرنڈم پر گہری نظر رکھے ہوۓ ہے

ان ممالک کے تجزیہ کار جہاں سکاٹش ریفرنڈم اس ہفتے میڈیا پر چھایا رہا، سکاٹ لینڈ کی آزادی کے امکانات کو کافی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ الگ ملک کے طور پر سکاٹ لینڈ چاہے سکاٹش عوام کے حق میں بہتر ثابت ہو یا نہیں، لیکن ایک آزاد سکاٹ لینڈ یورپ میں آزادی کی تحریکوں کو ہوا ضرور دے گا۔

’ناقابل تلافی نقصان‘:

ریڈیو فری یورپ لندن کی نامہ نگار موریل ڈیلاکروایکس کا ویسٹ منسٹر کو خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہاں بیٹھے ہوئےسیاسی قائدین کو سکاٹ لینڈ کی آزادی کی صورت میں بہت کچھ کھونا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے الگ ہونے سے ان کا دل ٹوٹ جاۓ گا

کچھ کے خیال میں اگر ’ہاں‘ کی مہم سکاٹش ریفرنڈم جیت جائے تو برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو مستعفٰی ہونا پڑے گا اور تاریخ میں ان کا نام ایک ایسے راہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس کے دور میں برطانوی یونین ٹوٹی۔ برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لیبر اور برسراقتدار لبرل ڈیموکریٹ بھی سکاٹ لینڈ کی صورت میں ایک ایسا مضبوط انتخابی میدان کھو دی گی جو کہ ویسٹ منسٹر میں اکثریت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اٹالین تجزیہ کار مارکو نیادہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے برطانوی معیشت پر اثرات تو اتنے گہرے نہیں دیکھتے لیکن ان کے خیال میں ’سیاسی طور پر یہ انگلش قوم کے لیے نہ صرف یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا بلکہ قومی پہچان پر بھی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔‘

بائیں بازو کے جرمن روزنامہ سوڈوچے کے کرسچن ذیشک کے مطابق ویسٹ منسٹر کے سیاست دان تین سو سال پر محیط برطانوی یونین کے فوائد کی بجائے، سکاٹش عوام کو آزادی کے معیشت پر ہونے والے ممکنہ برے اثرات ظاہر کر کے ’نہیں‘ کیمپین کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ویسٹ منسٹر کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو یہ جان کر دھچکا لگا ہے کہ انہیں اپنا مؤقف ایک الگ انداز میں پیش کرنا ہو گا جو کہ مثبت، تعمیری اور جذباتی ہو، لیکن شاید اب تو بہت دیر ہو چکی ہے۔‘

ہنگری کی اکنامک نیوز ویب سائٹ پورٹ فولیو نے خبردار کیا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی صورت میں یورپ میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں۔ بالخصوص کیٹیلونیا، فلینڈرز اور وینس سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ سکاٹ لینڈ کی آزادی سے یہ بھی اپنی آزادی کی تحریکوں کو جائز ثابت کرنے کی کوششیں کریں گے۔

’برطانوی سلطنت کا خاتمہ‘:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہاں‘ کمپین ایڈنبرا میں زوروں پر ہے۔

رشیا ون ٹی وی کہ مطابق ’برطانوی یونین کو بچانے کے لیے اب انتہائی کم وقت رہ گیا ہے۔‘

روزنامہ روسییسکایا گزیدا لکھتا ہے کہ ’ڈیوڈ کیمرون نہ صرف وزارت عظمیٰ کھو دیں گے بلکہ انھیں ملک توڑنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جائے گا‘

ییگور خولموگوروو روزنامہ ایزویستیا میں لکھتے ہیں کہ ’سکاٹ لینڈ کی آزادی، برطانوی سلطنت کے خلاف کسی بغاوت سے کم نہیں ہو گی اور اس کے بعد نادرن آئرلینڈ بھی آزادی کا راستہ اختیار کرے گا۔‘

’برطانیہ دوسرے درجے کا ملک‘

تائیوان اور تبت میں آزادی کی تحریکوں پر خدشات کے باعث ،چائنا کے سرکاری میڈیا نے زیادہ تر سکاٹش ریفرنڈم کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔

گلوبل ٹائمز کے مطابق، سکاٹ لینڈ کی آزادی کے بعد، برطانیہ دوسرے درجے کا ملک بن جائے گا۔

’وعدے اور خطرات‘

تنگ نظر ایرانی میڈیا ’ہاں‘ کیمپین کی حمایت تو نہیں کر رہا لیکن ان کے بقول، برطانوی سیاست دان اس وقت افراتفری کے عالم میں ہیں۔

فار نیوز ایجنسی لکھتی ہے کہ ’برطانیہ کے ٹوٹنے کے امکانات جیسے جیسے بڑھ رہے ہیں، لندن میں بیٹھے حکام سکاٹش عوام کو برطانیہ میں رہنے کے لیے قائل کرنے کے نت نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں، جو کہ سہانے وعدوں اور آزادی کی صورت درپیش خطرات پر مبنی ہیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ، دنیا بھر سے ریڈیو، ٹی وی، اور پرنٹ میڈیا کی خبریں اور تبصرے اکٹھے کرتی ہے۔