’مشرقی یوکرین میں نئے روسی امدادی قافلے کی آمد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تازہ پابندیوں کے نتیجے میں اب روسی بینک کو امریکہ سے صرف ایک ماہ کی مدت کا قرض مل سکے گا

روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تیس روسی ٹرک جن پر امدادی سامان لدا ہوا ہے سرحد پار کر کے مشرقی یوکرین گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان ٹرکوں پر خوراک، ادویات اور جنریٹر لدے ہوئے ہیں تاہم ان گاڑیوں کا عالمی مبصرین نے جائزہ نہیں لیا ہے۔

روس کو گذشتہ ماہ اس وقت شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے یوکرینی حکومت یا عالمی ریڈ کراس کی اجازت کے بغیر ہی امدادی قافلہ یوکرین بھیج دیا تھا۔

تاحال اس تازہ روسی قافلے پر یوکرین کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں وہ کہتا رہا ہے کہ روس ان قافلوں کے ذریعے ملک کے مشرقی حصے میں حکومت سے برسرِپیکار باغیوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

ادھر امریکی حکومت نے روس کے اہم بینکوں، دفاعی اور توانائی کی کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت کا نتیجہ ہیں اور یہ اقدامات روس کی سرزنش کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقی یوکرین میں کمزور سی جنگ بندی کے باوجود یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

روسی وزارت خارجہ نے ان نئی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں امریکہ کی جانب سے ’تصادم کی جانب ایک اور دشمنانہ قدم‘ قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یقینا ہمارے جوابی اقدامات کا آپ کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو کا کہنا ہے کہ ابھی بھی مشرقی یوکرین میں روس کے 1،000 سے زیادہ زبردست طور سے مسلح فوجی موجود ہیں جبکہ روس انھیں رضاکار کہتا ہے

جمعے کو اعلان کی گئی پابندی کا مطلب ہے کہ امریکی شہری روس کے سب سے بڑے بینک سبربینک کو 30 دنوں سے زیادہ کی مدت پر محیط قرض نہیں دے سکتے۔

نئی پابندیاں ٹکنالوجی اور دفاع کی اہم کمپنی روسٹیک اور روس کی تیل کی صنعت کی ٹکنالوجی کو بھی متاثر کرے گي۔

امریکی وزیر خزانہ جیکب لیو نے کہا: ’روس کی فوجی مداخلت اور یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کی اس کی واضح کوششوں کے سبب ہم نے اپنے یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ آج روس کے خلاف اپنی پابندیوں میں اضافہ کیا ہے۔‘

یہ پابندیاں روسی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی برادری کے جاری عزائم کی غماز ہیں۔

یورپی یونین اور امریکہ دونوں کا کہنا ہے کہ اگر حقیقی طور پر امن کی جانب روس پیش قدمی کرتا ہے تو ان پابندیون میں نرمی لائی جا سکتی ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ ابھی بھی مشرقی یوکرین میں روس کے 1،000 سے زیادہ زبردست طور سے مسلح فوجی موجود ہیں جکہ سرحد کے پاس 20،000 سے زیادہ فوجی موجود ہیں۔

روس باغیوں کو براہ راست فوجی امداد سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر وہاں کوئی روسی فوجی ہے تو وہ ’رضاکار‘ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مشرقی یوکرین کا علاقہ کئی مہینوں سے روس نواز باغیوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان تصادم سے متاثر ہے

مسٹر لیو نے کہا: ’یہ ضروری ہے کہ روس جنگ کا دیر پا حل تلاش کرنے کے لیے یوکرین اور دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ اگر روس ایسا کرتا ہے تو یہ نئی پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔‘

ان پابندیو پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے روسی صدر والادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اس سے یوکرین میں جنگ بندی کو نقصان پہنچے گا۔

انھوں نے کہا: ’مجھے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر یہ تازہ پابندیاں کس لیے ہیں۔ شاید کوئی اس بات سے ناخوش ہے کہ معاملہ پرامن رخ اختیار کر رہا ہے۔‘

روسی وزیر خارجہ سرگیئی لاورو نے کہا کہ ماسکو ’پرسکون اور مناسب طور پر اس کا جواب دے گا۔ سب سے اہم بات ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔‘

اس سے قبل روسی صدر کے معاون آندریئي بیلوسوو نے کہا تھا کہ جواب میں یورپ سے درآمد کی جانے والی کاروں اور بطور خاص سیکنڈ ہینڈ کاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں