’عرب ممالک کی دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں کی پیشکش‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ۔۔۔ امریکہ اس وقت عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف محدود فضائی کارروائیاں کر رہا ہے تاہم اس کا فی الحال زمینی دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کی حکمتِ عملی پر بات چیت کے لیے عالمی رہنما پیر کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں۔

فرانس کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں 20 ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے مگر ان میں خطے کے دو اہم ملک ایران اور شام شامل نہیں ہیں۔

ترکی جاگا یا ابھی نہیں۔۔۔

قتل و غارت کی مشین

دولتِ اسلامیہ ہے کیا؟

ایران نے اس کانفرنس کو ’محض نمائشی‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے جبکہ شام کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کسی بھی اتحاد کے موثر ہونے کے لیے اس میں شام کے ساتھ ساتھ روس اور ایران کی شمولیت ضروری ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھی اپنے مشرقِ وسطیٰ کے اہم دورے کے بعد پیرس پہنچ چکے ہیں اور وہ متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

کانفرنس کے میزبان فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہبرطانوی مغوی کا سر قلم کیے جانے کی ویڈیو سے ظاہر ہے کہ دنیا کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ کئی عرب ممالک نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی وزیر خارجہ نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد کی حمایت حاصل کرنے لیے مشرق وسطیٰ کا چار روزہ دورہ کیا

تاہم امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے لیے عراقی حکومت کی اجازت درکار ہوگی۔

دس عرب ممالک سمیت تقریباً 40 ممالک نے شدت پسند دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے امریکی قیادت میں ایک منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ عرب ممالک اور دیگر ممالک کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مدد کی یقین دہانی سے ان کی بے حد حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

امریکہ نے پیرس میں منعقدہ کانفرنس میں اہم علاقائی ملک ایران کی شرکت کے امکان کو رد کیا ہے جس پر ایران نے ان مذاکرت کو ’محض نمائشی‘ کہہ کر رد کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اتوار کو پیرس پہنچنے پر سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال امریکہ عراق میں فوج نہیں بھیجنا چاہتا۔

ایران کے علاوہ اس کانفرنس میں دولت اسلامیہ سے متاثرہ ملک شام بھی شامل نہیں ہے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ امریکی صدر اوباما کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد کا منصوبہ شام کی شمولیت کے بغیر بے مقصد ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی حکمت عملی میں بہت اہم عوامل موجود نہیں ہیں۔ شام اس وقت شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہمیں شدت پسندی کے خلاف کسی بھی سنجیدہ جنگ کے درمیان میں موجود ہونا چاہیے۔

’آپ اس وقت تک شدت پسندی کے خلاف لڑ نہیں سکتے جب تک آپ سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت ان ممالک کے ساتھ مل کر کام نہ کریں جنھوں نے ان شدت پسند گروہوں کو بنایا تھا۔‘

سعودی عرب اور قطر دولتِ اسلامیہ کی پشت پناہی کرنے کی تردید کرتے ہیں تاہم ان دونوں ملکوں نے شدت پسندوں گروہوں کو ہتھیار فراہم کیے تھے جن میں سے کئی اب دولتِ اسلامیہ کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ ترکی نے دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کو اپنی سرحد سے شام میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔

اس سے پہلے آسٹریلیا نے عراق میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف امریکہ کی قیادت میں ممکنہ آپریشن کے لیے اپنے 600 فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ان فوجیوں کو ابتدا میں متحدہ عرب امارات میں تعینات کیا جائے گا اور یہ کہ انھیں امریکہ کی مخصوص درخواست پر بھیجا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شام میں مغرب کی حمایت یافتہ بغاوت کے دوران وجود میں آنے والی تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے

گذشتہ ہفتے صدر اوباما نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے لڑنے کی حکمت عملی پیش کی تھی۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ یعنی آئی ایس عراق اور شام میں بڑے حصے پر قابض ہے اور اس کے تقریباً 30 ہزار جنگجو ہیں۔

امریکہ نے عراق میں نے آئی ایس کو نشانہ بنایا ہے اور صدر اوباما نے دو امریکی صحافیوں کے قتل کے بعد اس گروپ کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

دریں اثنا سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دیر رات جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں ایک برطانوی مغوی ڈیوڈ ہینز کے قتل کو دکھایا گيا ہے۔

اسی بارے میں