فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے دو افراد ہلاک، سو کو بچا لیا گیا

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلپائن میں کشتیوں میں اچھے حفاظتی انتظامات کا فقدان دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں ایسے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد ان میں ہلاک ہو جاتے ہیں

وسطی فلپائن میں خراب موسم کی وجہ سے ایک کشتی ڈوب گئی ہے جس میں سوار کم از کم 100 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ابھی تک حکام نے دو اموات کی تصدیق کی ہے۔

تاہم مہارلیکا-2 نامی اس کشتی کے مسافروں کی فہرست کے مطابق اس پر سوار صرف 84 مسافر سوار تھے، اس لیے حکام یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ابھی تک مزید کتنے افراد لا پتہ ہیں۔

جائے حادثہ پر امدادی کام جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کشتی جنوبی لیٹے صوبے کے لیلون بندرگاہ سے روانہ ہوئی تھی اور مقامی وقت کے مطابق رات کو تقریباً ساڑھے نو بجے کشتی کو خالی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ فلپائن میں کشتیوں میں اچھے حفاظتی انتظامات کا فقدان دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں ایسے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد ان میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

كوسٹ گارڈ کے مطابق خراب موسم میں پھنسنے کے سبب مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر بیس منٹ پر فیری کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈكشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے مطابق ’مہارلیکا-2 نامی فیری پناون جزیرے کے شمال مغرب میں خراب موسم کی وجہ سے ڈوبی۔‘

کمانڈر آرمینڈ بیلیلو نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین امدادی جہازوں کی جن میں دو بیرون ملک کے تجارتی جہاز تھے، مدد سے 102 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دو افراد کی موت ہو چکی ہے۔‘

انھون نے مزید کہا: ’ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ کشتی پر مزید کتنے آدمی سوار تھے کیونکہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس پر مزید بہت سے لوگ تھے۔‘

عام طور پر بغیر نام لکھوائے بھی لوگ کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں۔

کونسل کے ایک ترجمان مینا ماراسیگن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی کشتیوں کو جائے حادثہ پر پہنچنے میں تیز لہروں کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا ہے۔

کونسل کے بیان کے مطابق تیز ہواؤں اور طاقتور لہروں کے سبب فیری کو موڑنے میں دققتیں آ رہیں تھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خراب موسم، چھوٹے جہازوں یا بڑی کشتیوں کی خراب دیکھ بھال اور قوانین کو سختی سے نافذ نہیں کرنے کے سبب فلپائن میں سمندری حادثے عام بات ہیں۔

اسی بارے میں