سکاٹش ریفرنڈم: کیمرون کی عوام کو منانے کی ایک اور کوشش

Image caption الیکس سیمنڈ اور السٹر ڈارلنگ دونوں اپنی اپنی کمپینز کی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی کے معاملے میں ریفرنڈم کے انعقاد میں چار دن باقی رہ گئے ہیں اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سکاٹش عوام سے اس معاملے پر نفی میں ووٹ دینے کی درخواست کرنے کے لیے پیر کو پھر سکاٹ لینڈ جا رہے ہیں۔

یہ وزیرِ اعظم کا ایک ہفتے میں دوسرا دورۂ سکاٹ لینڈ ہے اور برطانیہ سے آزادی کی حامی جماعت کے رہنما ایلکس سیمنڈ نے اسے حکومت کی ’مکمل بوکھلاہٹ‘ قرار دیا ہے۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق سکاٹ لینڈ میں آزادی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ جیت کس کی ہو گی۔

بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں ریفرنڈم پر بحث کے دوران ایلکس سیمنڈ نے 18 ستمبر کو ہونے والے ریفرنڈم کو زندگی میں صرف ایک بار ملنے والا موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد سکاٹ لینڈ کی مہم کا ہدف ریفرنڈم میں اکثریتی فتح حاصل کرنا ہے۔

تاہم برطانیہ کو اکٹھا رکھنے والی مہم کے رہنما ایلسٹر ڈارلنگ نے کہا ہے کہ آزادی کے حق میں فیصلہ کرنے والوں کے پاس اپنے فیصلے پر ندامت کا موقع نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کے ان کی مہم ان ووٹرز کو ہدف بنا رہی ہے جو ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں۔

سیمنڈ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ہدف صرف ایک ووٹ سے نہیں بلکہ بھاری اکثریت سے جیتنا ہے‘۔

سیمنڈ نے دعوٰی کیا کہ آزادی کے مخالفین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں، بلکہ بہت سارے لوگ آزادی کے حق میں ہیں لیکن فیصلہ کرنے سے کترا رہے ہیں اور انہیں راضی کرنا ہی ہماری مہم کی کامیابی کا راز ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اگر سکاٹش عوام ریفرنڈم میں آزادی کو مسترد کردیں تو کیا آپ دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کریں گے؟ سیمنڈ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کو سکاٹ لینڈ کا آئینی ریفرنڈم یاد ہو تو وہ پہلی بار 1979 اور پھر دوبارہ 1997 میں ہوا تھا۔‘

Image caption ’ہاں‘ کمپین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایک ووٹر کو جا کر آزادی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔

سب سے بڑا فیصلہ:

ایلسٹر ڈارلنگ کا کہنا تھا کہ میں نے ایک سال پہلے کہ دیا تھا کہ جوں جوں ریفرنڈم کی تاریخ قریب آئے گی، ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ میں مقابلہ سخت ہوتا جائے گا۔ ان کے بقول ’اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ہم اپنی زندگی کا سب سے اہم اور بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

مسٹر ڈارلنگ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم، انتخابات کی طرح نہیں جس میں ہر پانچ سال کے بعد ووٹر کے پاس اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کا اختیار ہوتا ہے، ریفرنڈم میں فیصلے کے بعد آپ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اکثریت نے ابھی تک اپنا فیصلہ نہیں کیا۔

’نہیں‘ کمپین کے رہنما کے مطابق اس بارے میں بھی غیر یقینی ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد این ایچ ایس اور پنشن سروسز کو کیسے فنڈ کیا جائے گا؟

انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ میں اچھی، بڑی اور مثبت تبدیلی برطانیہ سے آزادی حاصل کئیے بغیر ہی لائی جا سکتی ہے۔

’ٹیم سکاٹ لینڈ‘:

ایلکس سیمنڈ نے اینڈریو مار شو کو بتایا کہ اگر سکاٹ لینڈ آزاد ہو جائے تو ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ کمپین ٹیمیں صرف ایک ٹیم میں تبدیل ہو جائیں گی اور وہ ہو گی، ’ٹیم سکاٹ لینڈ‘۔ سکاٹش وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد بینک آف انگلینڈ کو ہی مرکزی بینک کی حیثیت سے استعمال کیا جائے گا اور دونوں حکومتوں کے درمیان قرضوں اور ان کی ادائیگیوں کے معاملات پر بھی معاہدہ کیا جائے گا۔

’ ہم یہ تمام باتیں اپنی تجاویز میں بیان کر چکے ہیں‘

Image caption ’نہیں‘ کمپین ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے حامیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ آزادی کی صورت میں سکاٹ لینڈ برطانوی پاؤنڈ کو ہی اپنی کرنسی کے طور پر استعمال نہیں کر سکے گا لیکن مسٹر سیمنڈ نے امریکی اکانومسٹ جوزف سٹگلٹز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کرنسی انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ دونوں کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہو گی۔

ایلکس سیمنڈ اور ایلسٹر ڈارلنگ ایسے وقت میں آمنے سامنے بیٹھے تھے جب رائے عامہ کے تین نئے جائزوں نے آزادی مخالف کمپین کی اکثریت ظاہر کی ہے۔

نو اور بارہ ستمبر کے درمیان کئے گئے رائے عامہ کے چھ جائزوں کے اکٹھے جائزے کے مطابق ’نہیں‘ کمپین کو اکاون جبکہ ’ہاں‘ کمپین کو انچاس فیصد حمایت حاصل ہے۔

آبزرور اخبار کے سروے کے مطابق ’نہیں‘ کمپین کو ترپن جبکہ ’ہاں‘ کمپین کو سینتالیس فیصد حمایت حاصل ہے۔ سنڈے ٹائمز کے سروے کے مطابق،’نہیں‘ کمپین کو پچاس فیصد جبکہ ’ہاں‘ کمپین کو انچاس فیصد سکاٹش عوام کی حمایت حاصل ہے۔

البتہ سنڈے ٹیلی گراف کے سروے کے مطابق، سکاٹ لینڈ آزاد ہو جائے گا کیونکہ ’ہاں‘ کمپین کو چون فیصد جبکہ ’نہیں‘ کو چھیالیس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں