امریکہ دولت اسلامیہ کا خاتمہ کر پائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تجزیہ کاروں کے مطابق دولت اسلامیہ اور القاعدہ دنیا کی خطرناک ترین دہشت گرد تنظیمیں ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل کر لیا ہے جس کا مقصد دولت اسلامیہ کے خلاف ایک وسیع البنیاد عالمی اتحاد تشکیل دینا تھا۔

مسٹر کیری اس مہم میں سعودی عرب اور قطر سمیت دس عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

دولت اسلامیہ کی کارروائیوں کے خلاف عالمی برادری کے ردِعمل میں تیزی آئی ہے۔ اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے خلاف بننے والا عالمی اتحاد کیا اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا؟

امریکہ دولت اسلامیہ کے خلاف سخت موقف کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟

دولت اسلامیہ نہ صرف عراق اور شام کے وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے بلکہ ان کے پاس بڑی تعداد میں جدید ہتھیار اور بھاری مالی وسائل ہیں۔ یہ عام دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ خطرناک ہے۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے قائم کی گئی اسلامی خلافت کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جو خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

دولت اسلامیہ کے پاس ہزاروں غیر ملکی جنگجو ہیں جو مغربی ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

Image caption جان کیری نے دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد بنانے کے لیے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا

جان کیری عرب ممالک سے کتنا تعاون حاصل کر پائے ہیں؟

شاید یہ سب کچھ تو فی الحال کاغذوں تک ہی محدود ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ خطے میں مغرب کے اتحادی ممالک سے دولت اسلامیہ کے خلاف مضبوط تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

معاہدے کے تحت تمام ممالک دولت اسلامیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ تعاون صرف فوجی کارروائیوں تک ہی محدود نہیں ہو گا بلکہ ان میں سرحدوں کی حفاظت، دولت اسلامیہ کے نظریے اور انھیں ملنے والی مالی امداد کی روک تھام سمیت غیر ملکی شدت پسندوں کو تنظیم میں شمولیت سے روکنے جیسے اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

دوسری جانب واشنگٹن کے مغربی اتحادی بھی دولت اسلامیہ کے خلاف میدان میں نکلنے کے لیے راضی دکھائی دے رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے اپنے چھ سو فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو کہ شروع میں عرب امارات بھجوائے جائیں گے۔ فرانس کے بھی دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے کافی امکانات ہیں۔

دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی حال ہی میں ہونے والی نیٹو کانفرنس میں بھی زیر بحث رہی۔ امریکی فوج کے ایک سینئیر جنرل جان ایلن اس وسیع البنیاد اتحاد کا طریقہ کار اور دیگر معاملات طے کر رہے ہیں۔

کیا خطے کے ممالک دولت اسلامیہ کے خلاف ازخود کارروائی نہیں کر سکتے؟

وہ ایسا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ عراقی فوج کے امریکی تربیت یافتہ یونٹ بھی دولت اسلامیہ کے سامنے پسپا ہو گئے۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ نوری المالکی کے دور میں عراقی فوج کو بدعنوانی اور من پسند اقدامات نے بہت نقصان پہنچایا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں زمینی کارروائی نہیں کریں گے بلکہ دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے اور ان حملوں کو موثر بنانے میں تعاون کریں گے۔ البتہ شام میں حالات ذرا مختلف اور پیچیدہ ہیں جہاں عرب ممالک کی حمایت یافتہ کوئی قابل اعتماد مغرب نواز ملیشیا موجود نہیں ہے۔ شاید وہاں دولت اسلامیہ کو کمزور کرنے کے لیے امریکی کارروائی کو گراؤنڈ انٹیلی جنس پر انحصار کرنا پڑے گا۔

کیا برطانیہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کا حصہ بنے گا؟

لندن سے تمام تر اشارے یہی مل رہے ہیں کہ برطانیہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لے گا۔ بہر حال ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس کا اعلان کب کیا جائے گا اور کیا برطانیہ دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں بھی تعاون کرے گا یا کہ یہ تعاون عراق تک ہی محدود ہو گا۔ برطانیہ کرد جنگجوؤں اور یزیدی اقلیت کی مدد میں بھی پیش پیش رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مقتدٰی الصدر کی شیعہ مہدی ملیشیا اس سے پہلے عراق میں امریکہ کے خلاف لڑ چکی ہے

اس بات کا قوی امکان ہے کہ برطانیہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کا باقاعدہ اعلان سکاٹش ریفرینڈم کے بعد کرے۔ کیونکہ عراق میں ایک بار پھر جنگ کا فیصلہ سکاٹش ریفرینڈم پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

دولت اسلامیہ کے خاتمے میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے؟

اصل سوال یہ ہے کہ کیا دولت اسلامیہ کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہے یا کہ اسے صرف کمزور ہی کیا جا سکتا ہے؟ بہت سے امریکی تجزیہ کاروں کے نزدیک دولت اسلامیہ کا مکمل خاتمہ محض خام خیالی ہی ہو سکتی ہے۔

اس طرح کے شدت پسند گروپ ظاہری طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔ القاعدہ کی مثال ہی لے لیجیے جسے امریکہ عراق کے سنی گروپوں کے تعاون سے ہی شکست دینے میں کامیاب ہو سکا۔ لیکن اس بار معاملہ ذرا مختلف ہے۔ امریکہ کو دولت اسلامیہ کو عراق اور شام دونوں ممالک میں پسپا کرنا ہے۔

حکمت عملی جو بھی ہو لیکن دولت اسلامیہ کے خلاف یہ جدوجہد خاصی طویل ہو گی۔

اسی بارے میں