شدت پسند تنظیموں میں طاقت کی رسہ کشی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی فضائی کارروائی کے بعد دولت اسلامیہ کئی علاقوں سے پسپا ہوئی ہے

عراق میں وسیع علاقے پر کنٹرول، مغربی باشندوں کو قتل کرنے کی ہولناک فوٹیج، اور غیر ملکی شدت پسندوں کی اپنے ممالک واپس جا کر ممکنہ دہشت گرد کارروائیاں کرنا، ان تمام واقعات اور بحث سے مغربی ممالک کا پریشان ہونا لازمی تھا۔

دولت اسلامیہ کو یقینًا ایک بڑا خطرہ سمجھنا چاہیے اور اسے پسپا بھی کرنا چاہیے لیکن حالات اتنے سنگین بھی نہیں جتنا انھوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

دولت اسلامیہ صرف فوجی اعتبار سے ہی کمزور تنظیم نہیں ہے بلکہ اس کی حالیہ دہشت گرد کارروائیوں نے اسے نظریاتی طور پر بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے۔

القاعدہ کی ہی مثال لے لیجیے جس نے 13 سال قبل دہشت گردی سے امریکہ کو جھنجوڑ دیا تھا لیکن ان کے خلاف موثر امریکی کارروائیاں خصوصاً ڈرون حملوں نے القاعدہ اور اس کی قیادت کو اتنا کمزور کر دیا کہ اب ان میں 11 ستمبر جیسی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔

اسی لیے دولت اسلامیہ کو کمزور اور ختم کرنے کی لیے خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

طاقت کی رسہ کشی

دولت اسلامیہ نے اپنے قیام سے ہی القاعدہ کے نظریات اور اس کی قیادت کو قبول کیا لیکن اس نے عراق میں دیکھتے ہی دیکھتے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو القاعدہ سالہا سال جدوجہد کے باوجود نہ کر سکی تھی، مثال کے طور پر وسیع علاقے پر کنٹرول اور اسلامی خلافت کا قیام۔

القاعدہ کی ناکامیوں کو دولت اسلامیہ نے کامیابی میں بدلنے کے بعد تنظیم کے کمانڈر نے اپنے خلیفہ بننے کا اعلان کر دیا۔ اس کشمکش نے القاعدہ اور اس سے منسلک طالبان جیسی تنظیموں کو ناراض کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں ان کے راہنما خلیفہ کے عہدے کے لیے دولت اسلامیہ کے خلیفہ کے مقابلے میں زیادہ عالم فاضل ہیں۔

اپنا خلیفہ مقرر کرنے سے دولت اسلامیہ نے القاعدہ کے نظریات کو دھچکہ پہنچایا۔ دونوں تنظیموں کے درمیان اختلافات نظریاتی نہیں بلکہ یہ طاقت اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی جنگ ہے۔

دولت اسلامیہ نے اپنی فتوحات کو کیسے برقرار رکھا؟

دولت اسلامیہ نے عراق میں حاصل کی گئی فتوحات کو برقرار رکھنے میں اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر کامیابی نہیں حاصل کی بلکہ اس کی اصل وجہ کمزور عراقی فوج کی ناکامیاں ہیں۔

عراقی سنی قبائل کمزور حکومت کی غلط پالیسیوں سے تنگ آ کر شیعہ مخالف ایجنڈا رکھنے والی دولت اسلامیہ میں شامل ہوئے۔

چند ہفتے پہلے ہی امریکی فضائیہ کی مدد سے کرد پیش مرگ فوجیوں نے جنگی اعتبار سے اہم موصل ڈیم سے دولت اسلامیہ کو پسپا کیا، اور جواباً دولت اسلامیہ نے امریکی فضائی حملوں کو روکنے کے لیے امریکی صحافی جیمز فولی کو قتل کر ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فضائی اور زمینی آپریشن دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی حکمت عملی کا حصہ ہوں گے

لیکن یہ دولت اسلامیہ کے لیے ایک برا فیصلہ ثابت ہوا، القاعدہ کی طرح اس دہشت گرد تنظیم نے بھی اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔

عام شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچنے کا احتمال

امریکی صدر براک اوباما نے دس ستمبر کو دولت اسلامیہ کو کمزور اور ختم کرنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔

دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی اور زمینی حملے تنظیم کے شدت پسند جنگجوؤں کو دیہاتی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیں گے جس سے عام لوگوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ایسی صورتِ حال کا فائدہ دولت اسلامیہ کو ہی پہنچے گا۔ اور اسی لیے ان کے خلاف کارروائی میں کافی احتیاط برتنی ہو گی۔

احتیاط سے بنائی گئی کامیاب حکمت عملی چند مہینوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بغیر شہروں اور دیہاتوں سے دولت اسلامیہ کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

القاعدہ کی طرح فوجی کارروائی دولت اسلامیہ کے اثر و رسوخ کم تو کر سکتی ہے لیکن فی الحال اس کا نظریہ کسی نہ کسی صورت میں قائم رہے گا۔

دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول والے علاقوں سے پسپا ہونا، رہنماؤں کی ہلاکتیں اور موثر جنگی حکمت عملی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا حوصلہ پست کر دے گی۔

ایسا ہونے کے بعد نہ صرف یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ دولت اسلامیہ کی خلافت انتہائی مقبول ہے بلکہ ماڈرن جہاد کا یہ تصور بھی غیر معروف ہو جائ گا کہ سیاسی کامیابی انسانیت کے خلاف ہولناک تشدد سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں