سکاٹ لینڈ کو کیا ملے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو اختیارات کی منتقلی کے منصوبے پر وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے رہنما کے دستخط ہیں

جوں جوں ریفرینڈم کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے سکاٹ لینڈ کے عوام کی توجہ برطانیہ کا حصہ رہنے کی صورت میں سکاٹ لینڈ کو اختیارات کی منتقلی کے منصوبے پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔

18 ستمبر کو سکاٹ لینڈ کے شہری برطانیہ سے آزادی کے بارے میں ہاں یا نہ میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے ریفرینڈم کے دونوں فریق علیحدگی کے مطالبے کو مسترد کرنے کی صورت میں سکاٹ لینڈ کو اختیارات کی منتقلی کے فارمولے کو موضوعِ بحث بنائے ہوئے ہیں۔

اختیارات کی منتقلی کے عہد نامے پر وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نک کلیگ اور حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے دستخط کیے ہیں۔ اس عہد نامے کے تحت وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی اور بارنٹ فنڈنگ فارمولے کا تحفظ ہوگا۔ بارنٹ فارمولے کے تحت برطانیہ میں سرکاری اخراجات کی تقسیم کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔

برطانیہ سے علیحدگی کےحامی اختیارات کی منتقلی کے فارمولے کو سکاٹ لینڈ کے لوگوں کی ’بےعزتی‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی میں اتنی دیر کیوں کی گئی۔

اختیارات کی منتقلی کے اس عہدنامے میں سکاٹ لینڈ کے عوام سے عہد کیاگیا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو مزید اختیارات کی منتقلی ہو گی اور اس کا وقت بھی دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت نیشنل ہیلتھ سروس کی فنڈنگ متعین کرنے کا اختیار سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو حاصل ہوگا اور سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو فنڈ اکٹھے کرنے کی طاقت حاصل ہو گی۔

سکاٹ لینڈ کی ڈپٹی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجین نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں سکاٹ لینڈ کو اختیارات کی منتقلی کے عہدنامے پر تنقید کو نشانہ بناتے ہوئےاس منصوبے کے وقت اور دیانتداری کے بارے میں سوالات اٹھائے۔

ڈپٹی فرسٹ منسٹر نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کرسٹوفر چوپ کہہ چکے ہیں کہ وہ سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات کی منتقلی کی حمایت نہیں کریں گے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ اس منصوبے کو تسلیم کرے گی۔

برطانیہ کے شیڈو فارن سیکریٹری ڈگلس الیگزینڈر نے ’سانجھے میں بہتری‘ کی مہم کے دوران بات کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ اختیارات کی منتقلی کا منصوبہ پیش کرنے میں دیر کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو اختیارات کی منتقلی کے منصوے پر بات ہو رہی ہے اور وہ لوگوں کو بتا رہے ہیں۔ کہ ’طاقت ور سکاٹ لینڈ پارلیمنٹ‘ مستحکم اور محفوظ برطانیہ میں لوگوں کو زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کچھ دنوں سے زیادہ واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آئے ہیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا: ’ہم پوری برطانوی ریاست کو تبدیل کریں گے، ہاؤس آف لارڈ کو تبدیل کریں گے اور میں سکاٹ لینڈ کے لوگوں سے کہوں گا کہ وہ صرف سکاٹ لینڈ کی بجائے پوری برطانوی ریاست کی تبدیلی میں رہنمائی کریں۔‘

اسی بارے میں