’آزادی کے ریفرینڈم یورپی انضمام کے لیے تباہ کن ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس دور کی روح ساتھ رہنے میں ہے نہ کہ علیحدگی میں: ماریانو رخوئے

سپین کے وزیرِ اعظم ماریانو رخوئے نے خبردار کیا ہے کہ سکاٹ لینڈ اور سپین کے خطے کیٹلونیا میں آزادی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم یورپ کے لیے تارپیڈو کی مانند ہیں۔

انھوں نے بدھ کو پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے ہی ’اقتصادی کساد بازاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

ہسپانوی خطے کیٹلونیا میں نومبر میں آزادی کے سوال پر ریفرینڈم ہونا ہے جب کہ سکاٹ لینڈ میں جمعرات کو اسی معاملے پر ہونے والے ریفرینڈم میں بہت دلچسپی دیکھی گئی ہے۔

ماریانو رخوئے نے کہا کہ اگر سکاٹ لینڈ آزادی حاصل کر لیتا ہے تو اسے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔

کیٹلونیا کی ریاستی اسمبلی میں بدھ کو اس قرارداد پر ووٹنگ ہو رہی ہے جو نومبر میں سپین سے آزادی کے لیے ریفرینڈم کی راہ ہموار کرے گی۔

گذشتہ جمعرات کو خطے کے ہزاروں شہریوں نے بارسلونا کی دو مرکزی شاہراہوں پر جمع ہو کر اس ریفرینڈم کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔

تاہم سپین کی حکومت خطے کی آزادی کی جانب کسی بھی قدم کے حق میں نہیں اور آئین کے مطابق ریفرینڈم کو قانونی طور پر قبول کیے جانے کے لیے اس کی آشیرباد لازمی ہے۔

پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیرِ اعظم نے سکاٹ لینڈ جیسے ریفرینڈموں کو ’یورپی انضمام پر تارپیڈو حملہ‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپین میں شدید اقتصادی بحران کے بعد کیٹلونیا میں علیحدگی کی تحریک نے زور پکڑا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس دور کی روح ساتھ رہنے میں ہے نہ کہ علیحدگی میں اور اسی لیے وہ آزادی کے سوال پر ریفرینڈم کے انعقاد پر راضی ہونا انتہائی مشکل امر سمجھتے ہیں۔

ماریانو رخوئے نے یہ بھی کہا کہ اگر کیٹلونیا کی پارلیمان نے ’آئینی ووٹنگ‘ کی اجازت کا قانون منظور بھی کر لیا تو سپین کی آئینی عدالت اسے ’غیرقانونی‘ قرار دے سکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے کیٹلونیا کی آزادی کے حامی رہنما آرٹر ماس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سکاٹش عوام علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے اور ایک آزاد سکاٹ لینڈ کو یورپی یونین بھی قبول کر لے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہوا تو آزاد کیٹلونیا بھی اسی طرح یورپ کا حصہ بن سکے گا۔

تاہم ہسپانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ سکاٹ لینڈ کو آزادی کی صورت میں یورپی یونین کا حصہ بننے کے لیے ان تمام مراحل سے گزرنا پڑے گا جن سے کسی نئے ملک کو گزرنا پڑتا ہے۔

وہ ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر آزادی ملنے پر سکاٹ لینڈ نے یورپی یونین کا رکن بننے کی درخواست دی تو وہ اسے مسترد کر دیں گے۔

کیٹلونیا سپین کا سب سے امیر اور صنعتی علاقہ ہے اور سپین میں شدید اقتصادی بحران کے بعد یہاں علیحدگی کی تحریک نے زور پکڑا ہے۔

اسی بارے میں