سکاٹ لینڈ ریفرنڈم آج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے بارے میں کیے جانے والے ریفرینڈم کی مہم کے آخری روز فریقین نے اپنا اپنا موقف پیش کیا جبکہ تازہ سروے کے مطابق علیحدگی کے مخالفین کو معمولی سی برتری حاصل ہے۔

حامی اور مخالف رہنماؤں کی آخری کوششیں

منگل کو سکاٹ لینڈ ریفرینڈم کے بارے میں رائے عامہ کے تین جائزے مختلف اخبارات میں شائع ہوئے جن میں سے ایک ڈیلی ٹیلیگراف کا ہے، دوسرا سکاٹسمین کا اور تیسرا ڈیلی میل کا۔

تینوں جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ علیحدگی کے مخالفین کو 48 کے مقابلے میں 52 فیصد کی برتری حاصل ہے۔

مہم کے آخری دن سکاٹ لینڈ کے وزیر اعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے ایک مرتبہ پھر ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ ریفرینڈم کے دوران علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

مہم کے آخری روز ایلیکس سیمنڈ نے سکاٹ لینڈ کے لوگوں کے نام ایک خط میں کہا کہ ان کے پاس اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو برطانیہ کی تین مرکزی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ایک عہد پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ کے لوگ برطانیہ سے علیحدہ نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔

یہ عہد برطانوی اخبار ڈیلی ریکارڈ میں شائع ہوا جس پر ڈیوڈ کیمرون، ایڈ ملی بینڈ اور نک کلیگ کے دستخط ہیں۔

واضح رہے کہ سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں اگر برطانیہ سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔

اس عہد کے تین حصے ہیں۔

پہلے حصے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو ’وسیع اختیارات‘ ایک ’عمل کے ذریعے اور طے شدہ وقت‘ پر دیے جائیں گے۔ اس عمل اور ٹائم ٹیبل کا فیصلہ تینوں جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔

دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ تینوں سربراہان اس بات پر متفق ہیں کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی برطانیہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ سب کے لیے مواقع اور سکیورٹی فراہم کی جائے۔

11 ستمبر 1997 یعنی آج سے ٹھیک 17 برس قبل سکاٹ لینڈ کے عوام نے اختیارات کی تقسیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے نتیجے میں تین سو سال کے طویل عرصے کے بعد سکاٹش پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

تیسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ سروس این ایچ ایس کی فنڈنگ کے بارے میں حتمی فیصلہ سکاٹ لینڈ کی حکومت ہی کا ہو گا۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور قائد حزب اختلاف ایڈ ملی بینڈ سمیت برطانیہ کی تمام سیاسی قیادت اس کوشش میں ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کو قائل کر سکیں کہ وہ برطانیہ سے علیحدگی اختیار نہ کریں۔

برطانوی شاہی محل بکنگم پیلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدگی کا فیصلہ ’سکاٹ لینڈ کے عوام کے ہاتھ‘ میں ہے اور ملکہ برطانیہ اگلے ہفتے ہونے والے ریفرینڈم پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ علیحدگی کا فیصلہ کرتا ہے تو برطانیہ کی شمالی سرحد کے پار ملکہ کے کردار پر کیا اثر پڑے گا۔

یورپ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سے یورپ میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں یا خواہشوں میں شدت آئے گی۔

تین سو برس تک سلطنتِ برطانیہ کا حصہ رہنے کے بعد سکاٹ لینڈ کے عوام اٹھارہ ستمبر کو سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے آزادی کے بارے میں ہاں یا نہ میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ انگلینڈ میں اس ریفرنڈیم کا دن قریب آنے کے ساتھ ساتھ ایک اضطرابی کیفت پائی جاتی ہے۔ اس ریفرنڈم میں دلچسپی اتنی طویل مدت ساتھ رہنے والے انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگ اس پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں

انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں اضطراب

Image caption سکاٹ لینڈ تین سو سال سے برطانیہ کا حصہ ہے

ریفرنڈم کے حوالے سے انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں ایک اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے۔ کئی مالیاتی اداروں اور بینکوں نے علیحدگی کی صورت میں سکالینڈ سے اپنے مرکزی دفاتر کو لندن منتقل کرنے کی بات کی ہے۔

سکاٹ لینڈ کے وزیر اعلی ایلکس سمنڈ آزادی کے حق میں مہم چلا رہے ہیں اور انھوں نے اس ریفرنڈم کو سکاٹ لینڈ کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور قائد حزب اختلاف ایڈ ملی بینڈ سمیت برطانیہ کی تمام سیاسی قیادت اس کوشش میں ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کو قائل کر سکیں کہ وہ برطانیہ سے علیحدگی اختیار نہ کریں۔

برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدگی کا فیصلہ ’سکاٹ لینڈ کے عوام کے ہاتھ‘ میں ہے اور ملکہ برطانیہ اگلے ہفتے ہونے والے ریفرنڈم پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتیں۔

تاہم سول پیدا ہوتا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ علیحدگی کا فیصلہ کرتا ہے تو برطانیہ کی شمالی سرحد کے پار ملکہ کے کردار پر کیا اثر پڑے گا؟

یورپ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سے یورپ میں پائی جانے والی علیحدگی کی تحریک یا خواہشوں میں شدت آئے گی۔

سکاٹ لینڈ نئی تاریخ رقم کرنے والا ہے

سکاٹ لینڈ کے وزیراعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں فیصلہ دے کر عوام نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے لیے منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلیکس سیمنڈ نے ریفرینڈم کو سکاٹش عوام کو بااختیار بنانے کا عمل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ اب دوبارہ خوداعتمادی اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بن رہا ہے۔

Image caption سکاٹ لینڈ میں ہاں اور نہیں میں شدید مقابلہ ہے

بدھ کے روز برطانیہ کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے سکاٹش عوام سے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں فیصلہ دینے کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعظم کیمرون نے ایڈنبرا میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ ہوگیا تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘

راۓ عامہ کے حالیہ جائزے کے مطابق اس وقت برطانیہ کے ساتھ رہنے والی مہم کو آزاد سکاٹ لینڈ کی مہم پر معمولی سبقت حاصل ہے۔ اس سے قبل ہونے والی دو جائزوں کے مطابق ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کے درمیان مقابلہ برابر اور انتہائی سخت تھا۔

ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر کانٹے کا ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

11 ستمبر 1997 یعنی آج سے ٹھیک 17 برس قبل سکاٹ لینڈ کے عوام نے اختیارات کی تقسیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے نتیجے میں تین سو سال کے طویل عرصے کے بعد سکاٹش پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ایلیکس سیمنڈ کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے عوام ’ہاں‘ مہم کا ساتھ دیں گے، کیونکہ ’نہیں‘ مہم کے خالی وعدے اب سکاٹش عوام کو مزید دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ سے آزادی کے مخالفین میں کمی آ رہی ہے کیونکہ ’ہاں‘ مہم سکاٹ لینڈ کو خوشحال بنانے کے لیے زندگی میں ایک ہی بار ملنے والا موقع ہے۔

مسٹر سیمنڈ کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے باسیوں سے زیادہ کوئی اور بہتر طریقے سے سکاٹ لینڈ کو نہ تو چلا سکتا ہے اور نہ سکاٹش عوام کی خواہشات کو سمجھ سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام دنیا کی نظریں اس وقت سکاٹ لینڈ پر ہیں۔

ملکہ برطانیہ کا کیا بنے گا

جہاں تک شاہی خاندان کے سکاٹ لینڈ کے ساتھ تعلق کی بات ہے تو یہ کوئی راز نہیں۔ مثلاً شاہی خاندان کی ایک نہایت مشہور رہائش گاہ (بالمورل پیلس) سکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین کے نواح میں واقع ہے جسے ملکہ وکٹوریہ کے لیے شہزادہ ایلبرٹ نے خریدا تھا۔

ملکہ ہر سال ایک ہفتہ اینڈنبرا کے قریب واقع ’ہولی رُوڈ محل‘ میں بھی بسر کرتی ہیں جو کہ سکاٹ لینڈ میں ملکہ کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔

شہزادہ چارلس نے جس بورڈنگ سکول سے تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی سکاٹ لینڈ میں ہی ہے اور ہم انھیں اکثر سکاٹ لینڈ کا مشہور دھاری دار لباس (کِلٹ یا گھاگھرا) زیب تن کیے ہوئے بھی دیکھتے رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملکہ ہر سال ایک ہفتہ اینڈنبرا کے قریب واقع ’ہولی رُوڈ محل‘ میں بھی بسر کرتی ہیں

اس کے علاوہ شاہی خاندان کے مختلف افراد کو جن شاہی القابات سے جانا جاتا ہے ان کا تعلق بھی سکاٹ لینڈ سے ہے۔ مثلاً شہزادہ چارلس کو ’ڈیوک آف روتھسی‘ کہا جاتا ہے جبکہ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کو بالترتیب ’ڈیوک اینڈ ڈچًز آف کیمبرج‘ کے علاوہ ’ارل اینڈ کاؤنٹیس آف سٹریتھرن‘ بھی کہا جاتا ہے۔

سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامی ایلکس سیمنڈ بھی شاہی خاندان کے سکاٹ لینڈ کے ساتھ دیرینہ رشتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے شاہی رشتے دونوں کے درمیان قائم پارلیمانی رشتوں سے زیادہ قدیم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر پارلیمانی رشتے ختم بھی ہو گئے تو شاہی رشتے برقرار رہیں گے۔

اسی لیے ایلکس سیمنڈ (جو سکاٹ لینڈ کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں) اور ان کی حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ کے لوگ آزادی کے حق میں بھی ووٹ دیتے ہیں تو بھی ملکہ ’ملکۂ سکاٹ لینڈ‘ رہیں گی۔ رواں ہفتے کے اوائل میں ایلکس سیمنڈ نے کہا تھا کہ ملکہ برطانیہ ایک آزاد سکاٹ لینڈ کی ملکہ ہونے میں بھی ’فخر محسوس‘ کریں گی۔

ایلکس سیمنڈ کے برعکس سکاٹ لینڈ کی آزادی کے دیگر حامی رہنما ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

جہاں تک سکاٹ لینڈ کی عوام کا تعلق ہے توگذشتہ ماہ کیے جانے والے ایک جائزے میں 54 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ اگر سکاٹ لینڈ علیحدہ ہو بھی جاتا ہے تو وہ ملکہ برطانیہ کو ہی اپنی ملکہ تسلیم کریں گے جبکہ 34 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے کو ختم دیکھنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بالمورل پیلس سکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین کے نواح میں واقع ہے

اگرچہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکاٹ لینڈ میں شاہی خاندان کے مداحوں کی تعداد مخالفین سے زیادہ ہے، تاہم اگر آپ برطانیہ بھر کے رائے دہندگان کو دیکھیں تو شاہی خاندان کو قائم رکھنے کے خواہش مند لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق 77 فیصد برطانوی دہندگان شاہی خاندان کو قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ صرف 17 فیصد اس کے مخالف ہیں۔

یاد رہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدگی کے سوال پراٹھارہ ستمبر کو ریفرنڈم ہونے والا ہے۔ سکاٹ لینڈ کا مستقبل طے کرنے کے لیے اس سوال پر سکاٹ لینڈ کے لوگ ’ہاں‘ یا ’نہ‘ میں ووٹ دیں گے۔ اس تاریخی ریفرنڈم پر نہ صرف برطانیہ کے عوام میں بڑی دلچسپی پائی جاتی ہے بلکہ دنیا بھرکی نظریں اس جانب لگی ہوئی ہیں۔

دنیا بھر میں جہاں بھی اس قسم کے تنازعات چل رہے ہیں وہاں کے عوام پرامن طریقے سے اتنی حساس نوعیت کے سوال کو طے کیے جانے کی انوکھی مثال پر امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

برطانوی قیادت متحرک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب سکاٹ سکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں ریفرینڈم کو ایک ہفتہ رہ گیا ہے تمام برطانوی قیادت نے سکاٹ لینڈ کا رخ کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نگ کلیگ اور حزب اختلاف کے رہنما ایڈ ملی بینڈ بدھ کے روز سکاٹ لینڈ پہنچے ہیں جہاں وہ برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیمرون نے ایڈنبرا میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کہا: ’اگر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ ہوگیا تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘

سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کا حصہ رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرینڈم 18 ستمبر کو ہونا طے ہے۔

حالیہ جائزوں کے مطابق ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کے حامیوں میں سخت مقابلہ ہے۔ ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر شدید ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق 39 فیصد لوگ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامی ہیں جبکہ 38 فیصد سکاٹ لینڈ کو برطانیہ میں رہنے کے حامی ہیں جبکہ 23 فیصد ابھی تک گو مگو کی صورتحال میں ہیں۔

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سیمنڈ نے، جو برطانیہ سے علیحدگی کی مہم کے سربراہ ہیں، کہا ہے کہ موجودہ برطانیہ قیادت برطانیہ کی تاریخ کی سب سے غیر مقبول قیادت ہے اور ان کے سکاٹ لینڈ کے دورے سے علیحدگی کی مہم کو فائدہ ہوگا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز ڈیلی میل میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں برطانیہ کو متحد رکھنے کی استدعا کی ہے۔ انھوں نے کہا: ’سکاٹ لینڈ کے روشن مستقبل کا دار و مدار برطانیہ کا حصہ رہنے میں ہے، علیحدگی میں نہیں۔‘

ایک ہفتہ قبل ’سانجھے میں بھلائی‘ کے نام سے علیحدگی کے خلاف چلائی جانے والی کثیر الجماعتی مہم کو برتری حاصل تھی لیکن جوں جوں ریفرینڈم کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں، کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈون براؤن کے اس منصوبے کی حمایت کی ہے جس کے تحت ریفرینڈم میں سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے حامیوں کی شکست کی صورت میں سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات سونپے جائیں گے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات تقویض کرنے کے منصوبے سے متعلق ایک واضح ٹائم فریم دیں گے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا: ’سلطنت برطانیہ ایک انتہائی قیمتی اور خصوصی ملک ہے اور وہ سکاٹ لینڈ والوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نک کلیگ اور حزب اختلاف کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: ’بہت سارے معاملات پر ہمارے اختلافات ہیں لیکن جس پر ہم سب کا اتفاق ہے کہ وہ ہے کہ سانجھے میں بھلائی ہے۔‘

سکاٹ لینڈ آخر آزادی کیوں چاہتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سمتبر کو سکاٹ لینڈ کے ووٹر ریفرینڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ برطانیہ کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں یا الگ ہونا چاہتے ہیں۔

خودمختاری کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی سنہ 2011 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی اور واضح برتری کے باعث وہ آج اس قابل ہے کہ وہ یہ ریفرینڈم کروا سکے۔

ریفرینڈم کے روز سکاٹ لینڈ کے لوگ پولنگ سٹیشنوں پر جا کر اس سوال کا ہاں یا نہ میں جواب دیں گے کہ آیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں۔

مخالفت اور حمایت میں دلائل

منسٹر ایلیکس سیمنڈ کی قیادت میں سکاٹش حکومت کا موقف ہے کہ 300 سال سے جاری یہ اتحاد اب بے مقصد ہے اور آزاد ہونے کے بعد سکاٹ لینڈ اپنی تیل کی دولت کی بدولت دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔ ان کے بقول سکاٹ لینڈ کو لندن میں قائم حکومت کی زنجیروں سے آزاد ہونا ہے۔

اس بحث کی مخالف وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قیادت والی برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ متحدہ برطانیہ دنیا کا کامیاب ترین معاشی اور سیاسی مملکتوں میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حالیہ مہینوں میں دو بڑے مسائل کرنسی اور تیل کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

جہاں تک تیل کی بات ہے تو شمالی سمندر میں تیل اور گیس کے ذخائر سکاٹش حکومت کی جانب سے آزادی کے مطالبے کی بڑی وجہ ہیں۔

ایلیکس سیمنڈ کا کہنا ہے کہ تیل کے زرِ مبادلہ کی سالانہ ایک ارب پاؤنڈ بچت کرنے سے ایک نسل کے بعد یہی ذخیرہ 30 ارب پاؤنڈ کا ہو جائے گا۔

دوسری جانب مسٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ شمالی سمندر ہمیشہ سے برطانوی ترقی کا ذریعہ رہے ہیں لیکن اب یہاں سے تیل اور گیس کا حصول پہلے سے مشکل ہو گیا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ صنعت متحدہ برطانیہ کے زیرِ انتظام رہے۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں میں ایک ایسی چیز کی امید جگا رہے ہیں جو ختم ہونے والی ہے۔

کرنسی کا قضیہ

آزادی کے بعد بھی سکاٹ لینڈ پاؤنڈ ہی کو بطور کرنسی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور آزادی کے حامیوں کے خیال میں یہ سب کے بہترین مفاد میں ہے۔

لیکن برطانیہ کی تین مرکزی جماعتیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیمو کریٹس اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتحابات میں جو بھی جماعت بر سرِ اقتدار آئے گی وہ بھی اس اقدام کی اجازت نہیں دے گی۔

یہ فیصلہ برطانیہ کی وزراتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اس جائزے کے بعد کیا گیا ہے جس میں ان تمام وجوہات کا احاطہ کیا ہے جس سے کرنسی کے اتحاد کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گو کہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ نسبتاً زیادہ لوگ آزادی کے حق میں ہیں لیکن پھر بھی اس وقت قطعی طور پر کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔

رائے عامہ کے عمومی رجحان سے اشارہ ملا ہے کہ لوگ آزادی نہیں چاہتے لیکن اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اب حالات ان کے ساتھ ہیں۔

سنڈے ٹائمز کے اتوار کے YouGov سروے کے مطابق 51 فیصد لوگ آزادی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 49 فیصد لوگ اس کے مخالف ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں مقیم 16 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا براہ راست حق حاصل ہو گا۔ اس کے لیے ان کا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔

اس کے لیے کچھ ضروریات بھی ہوں گی۔ ووٹروں کا برطانوی شہری ہونا یا یورپی یونین کا ممبر، یا دولتِ مشترکہ کا شہری ضروری ہے جنھیں برطانیہ میں داخلے اور رہائش کی اجازت حاصل ہو۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے آٹھ لاکھ سکاٹش شہری ووٹ نہیں دے سکتے تاہم برطانیہ کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ چار لاکھ شہری جو سکاٹ لینڈ میں مقیم ہیں، ووٹ دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مسلح افواج کے لوگ اور ان کے خاندان والے بھی ووٹ دے سکتے ہیں جن کا ووٹ رجسٹرڈ ہے لیکن وہ ملک سے باہر مقیم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ریفرینڈم کے اگلے روز اگر جواب ہاں میں ہوا تو سکاٹش حکومت جشن منائے گی اور اس کے بعد وہ باقی ماندہ برطانیہ سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے گی۔

مسٹر سیمنڈ مارچ سنہ 2016 میں یوم آزادی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جب آزاد سکاٹش پارلیمان کے لیے پہلی بار انتخابات کرائے جائیں گے۔ لیکن اس سے قبل باقی ماندہ برطانیہ کے ساتھ قومی قرض میں سکاٹ لینڈ کے حصے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

لیکن اگر ریفرینڈم میں لوگوں نے زیادہ تعداد میں نہیں کے حق میں ووٹ دیا تو برطانوی حکومت کی جانب سے بڑے جشن کا امکان ہے۔ اس کے بعد وہ سکاٹش پارلیمان کو مزید اختیار دینے کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرے گی۔

لبرل ڈیموکریٹس اس مسئلے پر ایک عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں اور سابق رہنما سر مینزیز کیمبیل کی قیادت والے ایک کمیشن کا کہنا ہے یونین کی حامی جماعتوں میں اس بات پر زیادہ رضامندی ہے کہ ایڈنبرا پارلیمنٹ کو وصول کرنے کی زیادہ ذمے داری جیسے اہم مالی اختیارات دیے جانے چاہیے۔

پاؤنڈ کی قدر میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سکاٹ لینڈ کی متوقع علیحدگی کے خدشات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ پاؤنڈ کی قدر امریکی ڈالر اور یورو کے مقابلے میں ایک اعشاریہ تین فیصد کم ہو گئی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق سکاٹش ریفرینڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کی مہم کو اب برطانیہ میں ہی رہنے کی مہم پر سبقت حاصل ہو گئی ہے۔ اس سروے کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر گذشتہ دس ماہ کے دوران کم ترین سطح تک آ گئی ہے۔

غیر یقینی صورت حال سے سکاٹ لینڈ میں قائم کمپنیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔اینڈنبرا میں قائم سٹینڈرڈ لائف کے حصص تین فیصد، روئل بینک آف سکاٹ لینڈ تقریباً ڈھائی فیصد جب کہ لوئڈز بینک کے شئیرز میں 2.7 فیصد کمی آئی ہے۔

آئی جی فرانس کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار الیگزینڈر براڈیز کا کہنا ہے کہ سکاٹش ریفرینڈم کے حالیہ جائزے کے نتائج ان تمام سرمایہ کاروں کے لیے بیداری کا پیغام ہیں جنھوں نے سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے اثرات پر غور ہی نہیں کیا تھا۔

سکاٹش عوام 18 ستمبر کو ہونے والے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

سنڈے ٹائمز میں چھپنے والے حالیہ سروے کے مطابق وہ سکاٹش باشندے جو اپنی راۓ دینے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں، ان میں سے 51 فیصد آزادی کے حق جب کہ 49 فیصد برطانیہ سے علیحدگی کے مخالف ہیں۔

ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ آزادی کی صورت میں سکاٹ لینڈ کون سی کرنسی استعمال کرےگا۔

برطانوی بینک بارکلیز کی ایک تحقیق کے مطابق سکاٹ لینڈ کی آزادی کا فیصلہ بہت سے پیچیدہ مسائل کا صرف آغاز ہی ہو گا۔ تحقیق کے مطابق: ’سیاسی اور معاشی آزادی سے لے کر، اداراتی فریم ورک، اثاثوں کی تقسیم، مالیاتی پالیسیاں اور اس کے اثرات اور آزاد سکاٹ لینڈ کی کرنسی کے امور پر غیر یقینی صورت حال برقرار رہے گی۔‘

بی بی سی کے اکنامک مدیر رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ جتنا عرصہ ان تمام امور پر غیر یقینی صورت حال برقرار رہے گی، اس وقت تک اس کے اثرات برطانوی معیشت اور خزانے پر رہیں گے اور یہ تمام صورت حال برطانیہ اور سکاٹ لینڈ دونوں کی معاشی ترقی پر اثر انداز ہو گی۔