سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم سے کشمیر میں تبدیلی آئے گی؟

Image caption کئی ہزار کشمیری اس ہفتے سکاٹ لینڈ کے تاریخی ریفرینڈم میں حصہ لے رہے ہیں

جمعرات کو سکاٹ لینڈ کے لوگ آزادی کے معاملے پر ریفرینڈم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس ریفرینڈم پر ان علاقوں کے لوگوں کی نظر بھی ٹکی ہے، جہاں ریفرینڈم کی بات ہوتی رہی ہے، لیکن کبھی ووٹنگ نہیں ہوئی۔

ان میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھی شامل ہے۔

کیا سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم کا اثر بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر بھی ہوگا۔

کئی ہزار کشمیری بھی اس ہفتے سکاٹ لینڈ کے تاریخی ریفرینڈم میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان لوگوں کا ووٹ یہ طے کرے گا کہ وہ اپنی پرانی ثقافتی اور سیاسی شناخت کے ساتھ بنے رہنا چاہتے ہیں یا پھر ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہونا چاہتے ہیں۔

یہ کشمیری لوگ اپنا ووٹ سرینگر، میر پور یا پھر جموں میں نہیں بلکہ گلاسگو میں ڈالیں گے۔ سکاٹ لینڈ کے سب سے بڑے شہر گلاسگو میں پاکستانی نژاد 20 ہزار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، اس میں زیادہ تر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہیں۔

کشمیر میں ریفرینڈم کی بات سب سے پہلے 1947 میں اٹھی تھی۔ تب سکاٹش نیشنل پارٹی اپنے ابتدائی دنوں میں تھی۔ تب برطانوی پارلیمنٹ میں اس پارٹی کا کوئی رکن نہیں تھا اور سکاٹ لینڈ کی آزادی کی بات غیر حقیقی مانی جاتی تھی۔

70 سال بعد ہم کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشمیر میں ریفرینڈم کا مطالبہ اب بھی ہے، لیکن اس کے ہونے کا امکان دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا

آزادی کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی، سکاٹ لینڈ میں مضبوطی سے ابھری اور برطانیہ کی حکومت کو ریفرینڈم کرانے کے لیے مجبور کیا۔

کشمیر میں ریفرینڈم کا مطالبہ اب بھی ہے، لیکن اس کے ہونے کا امکان دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا۔

کشمیر میں ریفرینڈم سب سے اہم ریفرینڈم ہے جو کبھی نہیں ہوا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے ارکان میں تقریباً 30 ملک ایسے ہیں جو ریفرینڈم کے بعد آزاد ہوئے ہیں۔ کشمیر سے چھوٹے رقبے والے کئی ملک ہیں جو ریفرینڈم کی بدولت آزاد ہو چکے ہیں جن میں سے ایک مشرقی تیمور ہے۔

اگرچہ بہت سے دوسرے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ریفرینڈم کی بات ہوتی رہی ہے، لیکن وہاں ریفرینڈم نہیں ہو سکا جیسے کہ مغربی صحارہ۔

کیا کشمیر میں بھی ریفرینڈم ممکن ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیخ عبداللہ جب ریفرینڈم کی حمایت کرنے لگے تو جواہر لعل نہرو نےریفرینڈم کرانے سے انکار کر دیا

کشمیر کی جدید تاریخ انتہائی ’پیچیدہ مسئلہ‘ ہے۔ لیکن مختصراً دیکھیں تو بھارت میں برطانوی راج کے دوران جموں و کشمیر میں وہاں کے مہاراج کا راج تھا۔

بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کشمیر کے عوام کے درمیان ریفرینڈم کرانے کی بات کی۔

بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں ریفرینڈم کرانے کے حق میں تھے۔ بعد میں یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچا۔

تب کشمیر کے سربراہ لیڈر شیخ عبداللہ تھے۔ انہوں نے شروع میں بھارت کی حکمرانی کی حمایت کی۔ وہ ریفرینڈم کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی ریفرینڈم کے حق میں بولنے لگے۔ حالانکہ نہرو نے بعد میں ریفرینڈم کرانے سے انکار کر دیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، شیخ عبداللہ کے پوتے ہیں۔ وہ بھارتی حکومت کے حامی ہیں اور انتخابات جیت کر وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔

اگر کشمیر میں ریفرینڈم ہوا تو کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق کشمیر یا تو بھارت کے ساتھ رہے یا پھر پاکستان کے ساتھ اور اس میں مکمل کشمیر شامل ہے

کشمیر میں ریفرینڈم ہوا تو کیا ہوگا؟ اس کا جواب کوئی نہیں جانتا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 25 سالوں سے علیحدگی پسند مہم چل رہی ہے۔ ہندوستانی فوج کے ساتھ علیحدگی پسند جدوجہد میں دسیوں ہزار لوگوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ایسا ماحول بن گیا ہے کہ لوگ جیسا سوچتے ہیں، وہ بتانا نہیں چاہتے۔

میں سال کے آغاز میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تھا۔ وہاں کے ایک قابل اعتماد سیاسی تجزیہ کار نے مجھ سے کہا تھا کہ کشمیر میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے لیے زیادہ حمایت ہے اور دونوں ممالک سے الگ آزاد ہونے کے لیے اس سے بھی زیادہ۔

لیکن دو باتیں ذہن میں رکھنی ہوں گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق کشمیر یا تو بھارت کے ساتھ رہے گا یا پھر پاکستان کے ساتھ، اور اس میں مکمل کشمیر شامل ہے جبکہ وادیِ کشمیر میں پوری آبادی کے نصف سے بھی کم لوگ رہتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی کے لیے حمایت کم ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جموں کے ہندو بھی آزادی کے حق میں نہیں ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ معاملہ انتہائی الجھا ہوا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم سے کشمیر میں تبدیلی آئے گی؟

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ آزادی کی حامی ہے اور یہ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم سے سبق لیتے ہوئے بھارت کو اسے کشمیر میں اپنانا چاہیے۔

کشمیر ان دنوں سیلاب کے قہر کا سامنا کر رہا ہے، لیکن سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم پر سرینگر کی توجہ ہے۔ سکاٹ لینڈ اگر آزاد ہوا تو پھر کشمیر کی آزادی کی بات بھی ہو گی۔

کشمیر کے علیحدگی پسندوں کو کہا جاتا رہا ہے کہ کشمیر آزاد ہونے کے لحاظ سے کافی چھوٹا ہے لیکن ہو سکتا ہے وہ انھیں سمجھائیں کہ سکاٹ لینڈ کی آبادی تو کشمیر وادی جتنی ہی ہے۔

اسی بارے میں