شامی باغیوں کو تربیت دینے، مسلح کرنے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ایوان نمائندگان نے اس منصوبے کو 156 کے مقابلے میں 273 ووٹوں سے منظور کیا

امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور تربیت دینے کے امریکی صدر براک اوباما کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

رپبلکن جماعت کی اکثریت والے ایوان نمائندگان نے اس منصوبے کو واضح اکثریت سے منظور کیا ہے اور توقع ہے کہ یہ سینیٹ سے بھی منظور ہو جائے گا۔

ایوان نمائندگان نے یہ منصوبہ امریکی صدر کے ان بیانات کے بعد منظور کیا جن میں انھوں نے امریکی فوج کو عراق بھیجنے سے انکار کیا تھا۔

ایوان نمائندگان نے اس منصوبے کو 156 کے مقابلے میں 273 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس منصوبے کے تحت شام میں معتدل شامی باغیوں کو تربیت دینے اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے امریکی فوجیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے عراق میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے۔

’میں عراق میں ایک اور زمینی جنگ لڑنے کے لیے امریکی فوجی بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

اس سے قبل بھی امریکی صدر براک اوباما کئی بار اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی پالیسی کے تحت عراق میں بھیجی جانے والی فوج لڑائی میں حصہ نہیں لے گی۔

ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایک روز قبل ہی امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی امریکی پالیسی ناکام ہو گئی تو عراق میں فوج بھیجی جا سکتی ہے۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ ان کے خیال میں دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد اس شدت پسند تنظیم کے خلاف ایک اچھا اتحاد ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ اتحاد ناکام ہو گیا اور امریکہ کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم یقیناً صدر کے پاس اس تجویز کے ساتھ جائیں گے کہ عراق میں امریکی فوج بھیجی جائے۔‘

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے مضافات میں شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

اسی بارے میں