’برطانوی امدادی کارکن کو رہا کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دولت اسلامیہ کے شدت پسند اس سے قبل دو امریکی صحافیوں کو قتل کر چکے ہیں

برطانیہ میں مسلمان رہنماؤں نے دولت اسلامیہ سے برطانوی مغوی ایلن ہیننگ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

روزنامہ انڈی پینڈنٹ میں لکھے گئے ایک خط میں برطانیہ کے مسلمان رہنماؤں نے دولت اسلامیہ کو اسلامی تعلیمات کے خلاف شدت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے ان سے مغوی برطانوی امدادی کارکن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

47 سالہ امدادی کارکن ایلن ہیننگ کو دولت اسلامیہ نے گذشتہ سال دسمبر میں اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ ایک امدادی قافلے کے ہمراہ شام میں داخل ہوئے تھے۔

خط میں برطانوی مسلمان راہنماؤں نے لکھا ہے کہ امدادی کارکنوں کو قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے لیکن نام نہاد مسلمان تنظیم امدادی کارکنوں کو اغوا اور قتل کر رہی ہے۔

ان کے بقول اس طرح کی بربریت قرآن اور اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے، یہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

دولت اسلامیہ نے ایلن ہیننگ کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سو سے زائد برطانوی مسلمان پیش اماموں، اور تنظیموں نے یہ خط گذشتہ دنوں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کے قتل کی مذمت کرنے اور ایک اور برطانوی مغوی کی زندگی کو درپیش خطرات کے پیش نظر لکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیننگ ایک ٹیکسی ڈرائیور اور دو بچوں کے باپ ہیں اور وہ انسانیت کی مدد کے لیے شام گئے تھے۔ خط میں قرآنی آیات کا حوالہ دے کر بے گناہ انسانوں کے قتل اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

خط پر دستخط کرنے والے مسلمان رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برطانوی مسلمان نوجوانوں کو دولت اسلامیہ کے زہریلے نظریے سے دور رکھنے کے لیے مسلمان برادری ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔

بی بی سی کے مذہبی امور کی نامہ نگار، کیرولائن واٹ کے مطابق روزنامہ انڈی پینڈنٹ میں لکھا گیا خط اس بات کا مظہر ہے کہ برطانوی مسلمانوں کی اکثریت دولت اسلامیہ کے اس نام نہاد اسلامی نظریے سے خود کو دور رکھنا چاہتی ہے، جس کو بنیاد بنا کر دولت اسلامیہ اپنی کارروائیاں کو جائز قرار دیتی ہے۔