میں امریکی فوجی عراق نہیں بھیجوں گا: براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی طیاروں نے شمالی عراق میں سِنیچر کے قریب بھی دولت اسلامیہ کی فورسز پر حملے کیے ہیں جس میں چھ گاڑیاں تباہ ہوگئیں

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی فوجیوں سے خطاب میں کہا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے عراق میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے۔

’میں امریکہ جو عراق میں ایک اور زمینی جنگ لڑنے کے لیے بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

اس سے قبل بھی امریکی صدر براک اوباما کئی بار اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی پالیسی کے تحت عراق میں بھیجی جانے والی فوج لڑائی میں حصہ نہیں لی گی۔

ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایک روز قبل ہی امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی امریکی پالیسی ناکام ہوتی ہے تو عراق میں فوج بھیجی جا سکتی ہے۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ ان کو ماننا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد اس شدت پسند تنظیم کے خلاف اچھا اتحاد ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ اتحاد ناکام ہوتا ہے اور امریکہ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یقیناً ہم صدر کے پاس اس تجویز کے ساتھ جائیں گے کہ عراق میں امریکی فوج بھیجی جائے۔‘

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے مضافات میں شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

امریکہ اگست کے اوائل سے عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر 160 سے زیادہ حملے کرچکا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ امریکی فوج نے بغداد کے قریب ان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی صدر باراک اوباما کی اعلان کردہ حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں امریکہ نے عراق اور شام دونوں ملکوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیرس میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے تیس ملکوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی کمان میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مگر عراق کے پڑوسی ملکوں ایران اور شام دونوں کو ہی اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں