ایبولا سے عالمی امن اور سکیورٹی کو خطرہ: سلامتی کونسل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ۔۔۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس سے پہلے کبھی بھی صحت کے بحران پر اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

سلامتی کونسل نے متفقہ قراردار کے ذریعے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل مہیا کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں متنبہ کیا کہ ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ہر تین ہفتے بعد دگنی ہو رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق برس ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2600 ہو گئی ہے۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مزید کہا کہ’صورتحال کی سنجیدگی اور پھیلاؤ کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اب صحت کی سکیورٹی کے لیے ایک بے مثال بین الاقوامی کارروائی کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے’ اقوام متحدہ کا ہنگامی مشن‘ قائم کرنے کا اعلان کیا اور یہ مشن صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق وہ آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ سطح اجلاس طلب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2600 ہو گئی ہے

سلامتی کونسل کے جلاس میں بتایا گیا کہ ایبولا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ بین الاقوامی کوششوں کو تین گنا زیادہ ہونا چاہیے تھا اور متاثرہ افراد کی تعداد ہر تین ہفتے بعد دگنی ہو رہی ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں بعض ممالک کی جانب سے عائد سفری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو الگ تھلگ کرنے کی بجائے وہاں امداد پہنچائی جانی چاہیے۔

قرارداد میں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ طبی عملے اور فیلڈ ہسپتالوں سمیت فوری امداد فراہم کریں۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار نک برینٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس سے پہلے کبھی بھی صحت کے بحران پر اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے۔

اس اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے لائبیریا سے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر بین الاقوامی برادری فوری مدد کو نہ پہنچی تو ہم ’دنیا سے مٹ‘ جائیں گے۔

رواں ہفتے ہی امریکہ کے صدر براک اوباما نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی امن کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے اس وائرس کے خلاف مہم میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر نے جن اقدامات کا اعلان کیا ان میں خطے میں تین ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے علاوہ صحت عامہ کی نئی سہولیات کی تعمیر بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایبولا سے متاثرہ علاقوں میں’انتہائی غربت، غیر فعال صحت کا نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ ایک بڑا چیلنج ہے

امریکہ کی جانب سے ایبولا کے خلاف مہم میں شمولیت کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایبولا کا اس قدر تیزی سے پھیلاؤ صحت عامہ کا ایسا چیلنج ہے ’دور حاضر میں جس کی مثال نظر نہیں آتی۔‘

اقوام متحدہ کے ایبولا کے خلاف مہم کے رابطہ کار کے مطابق صرف گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار رقم میں دس گنا کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کی روک تھام میں ایک چیلینج یہ ہے کہ جو علاقے ایبولا سے متاثر ہیں وہ ’انتہائی غربت، غیر فعال صحت کے نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ کا بھی شکار ہیں۔

اسی بارے میں