نکسیر کے علاج پر نوبیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عام ڈگر سے ہٹ کر تحقیق کا مظاہرہ کرنے والے دو بھارتی سائنسدانوں نے اس برس کے آئی جی نوبیل ایوارڈ جیت لیے ہیں۔

امریکی ریاست مشیگن میں مقیم ڈاکٹر سونیا سرائیا اور ان کے ساتھی سائنسدانوں کو یہ انعام ان کی اس دریافت پر ملا ہے کہ ناک سے خون بہنے کی مہلک بیماری میں مبتلا بچوں کا علاج ناک کی نالی میں سؤر کے گوشت کی بنی ہوئی پٹیاں ڈالنے سے کیا جا سکتا ہے۔

آئی جی نوبل انعام کے دوسرے حقدار نارن راما کرشنا قرار پائے جنھوں نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ بلی کے کاٹے اور ذہنی کم مائیگی یا ڈیشپریشن کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔

گذشتہ عرصے میں غیر متوقع یا بعید القیاس تحقیق پر دیے جانے والے آئی جی نوبیل ایوراڈ اتنے ہی مشہور ہو چکے ہیں جتنا کہ اصل نوبیل انعام۔ اس برس اس سلسلے کے 24ویں ایوراڈز دیے گئے۔

سس برس آئی جی نوبیل ایوارڈ کے سلسلے کا سب سے بڑا انعام ایک ایسی تحقیق کے حصے میں آیا جس کا مقصد اس بات کا کھوج لگانا تھا کہ جب آپ کیلے کے چھلکے پر پاؤں رکھتے ہیں تو چھلکا پھسلنا کیوں شروع کر دیتا ہے۔

مشیگن کے ایک ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر سرائیا کا اپنی تحقیق کے حوالے سے کہنا ہے کہ بچوں میں نکسیر کا جو علاج انھوں نے دریافت کیا ہے وہ صرف اس صورت میں کام آتا ہے جب اس مرض کے مروجہ علاج کام نہ کریں اور مذکورہ بچے کا خون جمنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ ایسے بچوں کے علاج کے لیے ہمیں مروجہ طریقوں کی بجائے ایک نئے انداز سے سوچنا پڑا تھا۔جب ہم اس مسئلے سے دوچار ہوئے تو ہم سب نے مل کر عقل لڑانا شروع کر دی اور یہ سوچا کہ پرانے زمانے میں جب دوسرے علاج دریافت نہیں ہوئے تھے، تو تب لوگ ایسے بچوں کا کیا علاج کرتے ہوں گے۔‘

ڈاکٹر سرائیا کے مطابق انھوں نے جب ایک چار برس کے بچے کی ناک کی نالیوں کو دوا لگی ہوئی سؤر کےگوشت کی پٹیوں سے بھر دیا تو اس کی نکسیر فوراّ تھم گئی اور یہ علاج بہت مؤثر ثابت ہوا۔‘

ان کے بقول اس ٹوٹکے کے کامیاب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ’سؤر کے گوشت میں خون جمانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں نمک کا تناسب بھی زیادہ ہوتا ہے جو ناک سے نکلنے والے مائع مادے کو فوراّ جذب کر لیتا ہے۔‘

آئی جی نوبیل انعام کے دوسرے حقدار نارن راماکرشنا اور ان کے ساتھیوں کو ’صحت عامہ‘ کے شعبے میں ایوارڈ دیاگیا۔

نارن راماکرشنا اور ان کی ٹیم نے ڈیپریشن اور بلی کے کاٹے سے متعلق جمع بے شمار اعداد و شمار پر تحقیق کی اور ان کی تحقیق کے مطابق کسی شخص کے ذہنی کم مائیگی اور اس بات کے درمیان ممکنہ تعلق موجود ہے کہ اس شخص کو بلی نے کتنی مرتبہ کاٹا تھا۔

اگرچہ اس تحقیق میں یہ واضح نہیں کیا جا سکا ہے کہ ڈیپریشن اور بلی کے کاٹے میں تعلق کتنا گہرا ہے، تاہم اس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ہمیں ڈیپریشن جیسے ذہنی امراض اور گھر میں بلی کے ہونے کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید سوچنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ نوبیل انعام کی نقل میں شروع کیے جانے والے آئی جی نوبیل انعامات کا اہتمام ایک فکاہیہ سائنسی رسالہ کرتا ہے اور اس برس یہ انعامات امریکہ کی مشہور ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں دیےگئے۔

اسی بارے میں