آزادی کے سوال پر ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کی گنتی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک بھر میں ووٹر 2608 پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے اور پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے تک جاری رہی

سکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی حاصل کرنے یا ساتھ رہنے کے فیصلے پر ریفرینڈم میں پولنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے اور گنتی شروع ہو گئی ہے۔

اس ریفرینڈم میں ووٹروں سے سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ملک ہونا چاہیے اور اس پر ووٹرز ’ہاں‘ یا ’نہ‘ میں جواب دیا ہے۔

اس ریفرینڈم میں 42 لاکھ 85 ہزار 323 رجسٹرڈ ووٹر حاصل لے رہے ہیں اور ٹرن آؤٹ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

سکاٹ لینڈ میں 5579 پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے اور پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے تک جاری رہی جبکہ نتائج جمعے کی صبح تک متوقع ہیں۔

ووٹنگ کے مرحلے کے بند ہونے کے بعد یو گو (YouGov) کے سروے میں کہا گیا ہے کہ آزادی کے حق میں 46 فیصد جبکہ مخالف میں 54 فیصد افراد ہیں۔

اس سروے کے لیے 1828 ووٹرز اور 800 پوسٹل ووٹرز سے ووٹ ڈالنے کے بعد پوچھا گیا۔

ووٹوں کی گنتی کے عمل کا آغاز سے سکاٹ لینڈ کی 32 کونسلز میں ووٹ گنے جائیں گے۔ ان ووٹوں میں 789 ہزار پوسٹل بھی ہیں جو سکاٹ لینڈ میں پوسٹل ووٹوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایک بار 32 کونسلز میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہر کونسل کا سربراہ ایڈنبرا میں موجود چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کو ان ووٹوں کے اعداد و شمار بھیجیں گے۔

چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کی اجازت کے بعد ہی حتمی نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔

چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کااس سے قبل کہنا تھا کہ وہ جمعہ کی صبح ساڑھے چھ اور ساڑھے سات بجے کے درمیان نتائج کا اعلان کریں گی۔

برطانوی اخبارات دا سن اور دا ٹائمز کے لیے کیے گئے سروے کے مطابق 48 فیصد لوگ آزادی کے حق میں ہیں جبکہ 52 فیصد افراد اس کے مخالف ہیں۔ تاہم اس سروے میں چھ فیصد ایسے افراد ہیں جنھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ڈیلی ریکارڈ کے لیے کیے جانے والے ایک اور سروے کے مطابق آزادی کے مخالفین 53 فیصد جبکہ حق میں 47 فیصد افراد ہیں جبکہ نو فیصد ایسے افراد ہیں جنھوں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔

مہم کے آخری روز ایلیکس سیمنڈ نے سکاٹ لینڈ کے لوگوں کے نام ایک خط میں کہا کہ اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ان کے ہاتھوں میں ہے۔

اسی بارے میں