سکاٹ لینڈ: آگے ہوگا کیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سکاٹ لینڈ کے رائے دہندگان نے ایک تاریخی ریفرینڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کے خلاف ووٹ دے کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

اس کا مطلب فی االحال یہی ہے کہ سکاٹ لینڈ متحدہ برطانیہ کا لازمی جزو رہے گا، تاہم بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ آنے والے ماہ و سال میں اس سوال پر دھواں دھار بحث جاری رہے گی کہ لندن سے مزید اختیارات کیسے سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کو ملیں گے۔

اب سکاٹ لینڈ کے حوالے سے ہونے والی بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہوگا کہ برطانیہ کی مرکزی حکومت سکاٹ لینڈ کو اختیارات منتقل کرنے کے اپنے وعدوں پر کس قدر پورا اترے گی۔

زیادت طاقت

برطانیہ کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں، کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ، اتفاق کرتی ہیں کہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو اختیارات کی مزید منقتلی ضروری ہے۔ ریفرینڈم کی مہم کے دوران تینوں جماعتوں نے ایک دستاویز پر دستخط کیے کہ اگر سکاٹ لینڈ آزادی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو ہولی روڈ میں قائم سکاٹش پارلیمان کو زیادہ اختیارات منتقل کیے جائیں گے۔

اختیارات کی منتقلی کا جو نظام الاوقات سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے وضح کیا تھا تمام جماعتوں نے فوراّ اس کی تائید کر دی ہے، اور نتائج کا اعلان ہوتے ہی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے لارڈ سمتھ کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے کہ وہ ٹیکس، اخراجات اور حکومت کی جانب سے غریب لوگوں کو دی جانے والی مالی مدد کے شعبوں میں سکاٹ لینڈ کو اختیارت کی منتقلی کی نگرانی کریں۔

اس سلسلے میں اگلا قدم وزیراعظم کی نگرانی میں ایک مفصل دستاویز کی تیاری ہے جو اکتوبر کے آخر تک متوقع ہے، جس کے بعد تمام تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے نومبر میں ایک قرطاس ابیض یا وائٹ پیپر شائع کیا جائےگا۔

25 جنوری 2015 تک ’سکاٹ لینڈ ایکٹ‘ کے نام سے متوقع قوانین کا ایک مسودہ شائع کیا جائے اور اسے برطانیہ کے دارالعلوم یا ہاؤس آف کامز میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ توقع ہے کہ نیا ایکٹ فوراّ منظور نہیں ہو سکے گا کیونکہ یہ کام مئی 2015 میں عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت ہی کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیوڈ کیمرون نے لارڈ سمتھ کو سکاٹ لینڈ کو اختیارت کی منقتلی کی نگرانی کی ہدایت کی ہے

بی بی سی کے مدیر برائے سیاسی امور، نِک رابسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں آئین میں جن نہایت اہم تبدیلیوں کے وعدے کر رہی ہیں ان کے اثرات نہ صرف سکاٹ لینڈ بلکہ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے مستقبل پر بھی مرتب ہوں گے۔

نِک رابنسن کے مطابق اگرچہ تینوں جماعتوں کے رہنما اختیارات کی منتقلی کے نظام الاوقات پر متفق ہو چکے ہیں لیکن ابھی یہ رہنما مختلف تجاویز پر اتفاق سے کوسوں دور ہیں۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ایلکس سیمنڈ یہ ریفرینڈم ہار گئے ہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سکاٹ لینڈ کے وزیرِاعلیٰ ہیں۔ وہ ہر اس بات پر رضامند نہیں ہو جائیں گے جو ان کے مخالفین تجویز کریں گے۔‘

’اس ریفرینڈم نے سکاٹ لینڈ میں گزشتہ برسوں سے جاری ایک بحث کو تو فی الحال ختم کر دیا ہے، لیکن ریفرینڈم نے اس دھماکہ خیز سوال کو آگ دکھا دی ہے کہ برطانیہ میں آخر اصل طاقت کا مرکز ہے کہاں۔‘

اسی بارے میں