امریکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف متحد ہے: صدر اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عراق میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے: صدر اوباما

امریکی ایوانِ نمائندگان کے بعد سینیٹ نے بھی اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور تربیت دینے کے امریکی صدر براک اوباما کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت شام میں معتدل شامی باغیوں کو تربیت دینے اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

کانگریس سے منصوبے کی منظوری کے فوری بعد صدر اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ’تربیت کے نئے منصوبے کی کانگریس میں دو جماعتوں کی مضبوط حمایت سے دنیا میں ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متحد ہے۔‘

شامی باغیوں کو تربیت دینے کے منظوری

دوسری جانب امریکہ نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کو جاری رکھا اور اب توقع ہے کہ شام میں بھی فضائی کارروائیاں کی جائیں گی تاہم صدر اوباما نے اس اعلان کو دوبارہ دوہرایا کہ دونوں میں سے کسی ملک میں زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی۔

صدر اوباما کے بیان کے مطابق’ ہم مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی ایک اور زمینی جنگ کے بغیر دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔‘

اس سے پہلے فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ عراقی صدر کی درخواست پر شدت پسندوں کے خلاف لڑنے والی فورسز کی مدد کے لیے فضائی مدد فراہم کرنے پر تیار ہیں لیکن شام میں ایسا نہیں کریں گے۔

سینیٹ میں صدر اوباما کے مخالف رہنما اور رپبکن جماعت کے سینیٹر مچ میکونل نے کہا’ مجھے شام میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے اتحادیوں کی قابل ذکر عسکری طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت پر خدشات ہیں لیکن اس کے باوجود میں صدر کے پروگرام شروع کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں۔‘

اس سے پہلے رپبلکن جماعت کی اکثریت والے ایوان نمائندگان نے اس منصوبے کو واضح اکثریت سے منظور کیا تھا۔ایوان نمائندگان نے یہ منصوبہ امریکی صدر کے ان بیانات کے بعد منظور کیا جن میں انھوں نے امریکی فوج کو عراق بھیجنے سے انکار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کے عراق میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے جاری ہیں

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے امریکی فوجیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے عراق میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے۔

اس سے قبل بھی امریکی صدر براک اوباما کئی بار اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی پالیسی کے تحت عراق میں بھیجی جانے والی فوج لڑائی میں حصہ نہیں لے گی۔

ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایک روز قبل ہی امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی امریکی پالیسی ناکام ہو گئی تو عراق میں فوج بھیجی جا سکتی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے مضافات میں شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

اسی بارے میں