’ازبک شہزادی‘ کی تصاویر منظر عام پر

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گلنارا کریمووا کی اپنے گھر میں ’نظر بندی‘ کی تصاویر ایک لندن کی پبلک رلیشنز کمپنی نے تقسیم کی ہیں

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف کی کئی ماہ سے گھر میں ’نظر بند‘ بیٹی گلنارا کریمووا نے لندن کی ایک پبلک ریلیشنز کمپنی کو اپنی نمائندگی کے لیے مقرر کیا ہے۔

ڈیوڈسن ریان ڈور نامی کمپنی ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں گلنارا کریمووا کے گھر سے برآمد کی جانے والی ریکارڈنگز اور تصاویر کو خبر رساں اداروں میں تقسیم کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گلنارا کریموا فیشن ڈیزائنر ہیں اور کچھ عرصہ پہلے کئی ٹی وی سٹیشنوں کی مالک بتائی جاتی تھیں۔ اب وہ ٹی وی سٹیشن بند ہو چکے ہیں اور کریمووا اپنے باپ صدر اسلام کریموف کے قریبی ساتھیوں کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔گلنارا کریمووا نے اپنے باپ کے سب سے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار رستم عنایتوف کے خلاف مہم چلائی اور الزام عائد کیا تھا کہ وہ ازبکستان کا صدر بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس ہفتے میں شائع کردہ نئی تصاویر میں گلنارا کریمووا کو سیکورٹی گارڈز بظاہر زبردستی دھکيلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

گلنارا کریمووا کی یہ تصاویر ان کی ماضی کی تصاویر سے مختلف ہیں جن میں وہ اپنے پاپ سٹار سٹائل اور فیشن کی ملکہ کے نام سے مشہور تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ازبکستان کے صدر اسلام کریموف کے جانشین کو اب تک ظاہر نہیں کیا گیا ہے

ایک سال قبل گلنارا کریمووا کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ازبکستان کے سب سے زیادہ بااثر اور طاقتور لوگوں میں سے ایک تھیں اور وہ اپنے والد کی جگہ لیں گی۔

لیکن اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک زبردست جھگڑے کے باعث گلنارا کی مراعات اور اثاثے ان سے چھین لیے گئے۔ اس ماہ ازبکستان کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ گلنارا کے خلاف بدعنوانی کے جرائم کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

گلنارا کریمووا کی تازہ ترین تصاویر میں وہ اپنے سیکورٹی گارڈز کے ساتھ بحث کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

گزشتہ ماہ گلنارا کریمووا کی خفیہ ریکارڈنگز تقسیم کی گئی تھیں جن میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہی ہیں کہ ان کو اور ان کی نوجوان بیٹی کے ساتھ ’کتوں سے بھی بدتر‘ سلوک کیا جا رہا تھا اور ان دونوں کو فوری طور پر طبی امداد کی کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گلنارا کریمووا ایک فیشن ڈیزائینر تھیں اور ان کو ’ازبکستان کی شہزادی‘ کہا جاتا تھا

تعلقات عامہ کی کمپنی کے ترجمان لوکسلی نے بی بی سی ازبک کو بتایا: ’ہماری کمپنی کو تین ماہ قبل گلنارا کریمووا کے کئی ممالک میں رہنے والے اہل خانہ اور دوستوں نے مقرر کیا تھا‘۔انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کو گلنارا کریمووا کے بیٹے نے مقرر کیا تھا، جو لندن میں پڑھ رہے ہیں۔

لوکسلی نے کہا کہ گلنارا کے ساتھ ان کا رابطہ موجود ہے لیکن یہ ایک ’انتہائی مشکل‘ کام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’گلنارا کو تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور وہ صرف اپنے ساتھ قید بیٹی اور گارڈز کے ساتھ بات کر سکتی ہیں۔‘

لوکسلی نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ گلنارا کو خوراک بھی نہیں دی جاتی تھی۔

گزشتہ ماہ میں شائع کردہ آڈیو ریکارڈنگ میں گلنارا نے بتایا تھا کہ ان کی صورت حال بہت خراب تھی۔

گلنارا نے ایک ریکارڈنگ میں کہا کہ ’پورے گھر میں سینکڑوں کیمرے لگے ہوئے ہیں اور اس طرح کا خصوصی سسٹم جو کسی بھی قسم کی مواصلات کو مسدود کررہا ہے۔ یہ سب میرے اور میری بیٹی پر شدید نفسیاتی دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے۔‘

لوکسلی نے کہا کہ جیسے ہی گلنارا کی ریکارڈنگ کو عام کیا گیا، تو گلنارا کے گھر کے تمام عملے کو گھر سے باہر کہیں اور بھیج دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان تازہ ترین تصاویر میں گلنارا کریموا کے ساتھ دو سیکورٹی گارڈ دکھائی دے رہے ہیں

ایک نئی ویب سائٹ ’فری گلنارا ناؤ‘ میں لوکسلی نے کہا ہے کہ ازبکستان کے صدر کی بیٹی براہ راست بین الاقوامی برادری سے اپیل کر رہی ہیں کہ ان کی ’قسمت کا فیصلہ آزاد عدالتیں کریں، اور سیاسی فوائد کے خواہش مند افراد نہیں۔‘

گلنارا کو یورپ میں بدعنوانی کی کئی تحقیقات سے منسلک کیا گیا ہے اور سوئٹزرلینڈ میں ان کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

دس دن قبل ازبکستان کے سرکاری وکیل کے آفس نے اعلان کیا کہ گلنارا کے خلاف ایک مجرمانہ گروہ کے ساتھ مبینہ روابطہ رکھنے پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

لوکسلی نے گلنارا پر ازبک حکام کے الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اگر گلنارا نے کچھ غلط کیا ہے تو ان کو سوئٹزرلینڈ جانے دیا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف الزامات کو سمجھیں اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیں۔

لوکسلی کا کہنا ہے کہ گلنارا کے کئی ساتھیوں کو سزایں سنائی گئی ہیں اس لیے ان کو ازبکستان کے قانونی نظام سے انصاف فراہم ہونے کے امکان نظر نہیں آتے.

انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک طویل عرصے سے ازبکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر یہ کہتے ہوئے تنقید کر رہی ہیں کہ ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ انتہائی پست ہیں۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ گلنارا کی اپنی عزت میں کمی اور اپنے گھر میں نظربند ہو جانا اس درد اور زیادتی سے بہت کم ہے جس سے ملک کے دوسرے قیدی گزر رہے ہیں۔

اسی بارے میں