روسی طیاروں کی جارحانہ پروازیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روسی طیارے اکثر الاسکا کی فضاؤں میں مداخلت کرتے ہیں

امریکی دفاعی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے طیاروں نے روسی فضائیہ کے چھ طیاروں کو بدھ کے روز امریکی ریاست الاسکا کے ساحل کی فضاؤں میں راستہ بدل کر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

روسی فضائیہ کے طیارے ایئر ڈیفنس ائڈنٹیفیکیش زون (اے ڈی آئی زیڈ) میں داخل ہو گئے تھے لیکن انھوں نے امریکی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ان طیاروں میں دو جدید ترین مگ اکتیس جیٹ طیارے بھی شامل تھے امریکی اور کینیڈا کی طیاروں کی مداخلت کے بعد واپس لوٹ گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات عام ہیں اور ہر سال اس طرح کے دس واقعات پیش آتے ہیں۔

اے ڈی آئی زیڈ زون وہ فضائی حدود ہیں جو ساحل سمندر سے دو سو میل تک ہیں اور بین الاقوامی فضائی حدود میں آتی ہیں۔

امریکہ کی فضائی حدود ساحل سمندر سے بارہ ناٹیکل میل تک ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ATI
Image caption امریکی فضائیہ کے ساتھ کینیڈا کے سی ایف 18 طیاروں نے بھی روسی طیاروں کا راستہ روکا

الاسکا میں تعینات امریکی فضائیہ کےدو ایف 22 لڑاکا طیارے اور کینڈا کی فضائیہ کے سی ایف 18۔ جیٹ طیاروں نے منگل اور بدھ کو دو مختلف واقعات میں روسی طیاروں کو اپنی فضائی حدود میں لوٹ جانے پرمجبور کیا۔

سویڈن کی وزارتِ خارجہ نے بھی بدھ کو کہا کہ دو روسی فضائیہ کے دو طیاروں نے اولینڈ کے جزیدے کے قریب اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

سویڈن کی حکومت نے اس خلاف ورزی کو روسی فضائیہ کی طرف سے سویڈن کی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سویڈن کی حکومت نے اس سلسلے میں روسی سفیر کو دفترِ خارجہ میں طالب کرکے اس واقعے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔

.

اسی بارے میں