چوبیس گھنٹوں میں 45000 کردوں کی ترکی ہجرت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی میں شام سے پناہ گزین ہزاروں کی تعداد میں آئے ہیں

ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حملوں کے ڈر سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں شام سے تقریباً 45000 کرد ترکی میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ایک دن قبل ترکی نے کوبین نامی کرد علاقے سے فرار ہونے والے کردوں کے لیے اپنی سرحد کھول دیں تھیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ترکی سے تقریباً 300 کرد جنگجو اس اہم علاقے کا دفاع کرنے کے لیے شام جا چکے ہیں۔

دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے حصوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور کوبین کے ارد گرد درجنوں دیہاتی علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔

عراق اور شام کے درمیان ترکی نے 847000 سے زیادہ پناہ گزین کو گزشتہ تین سال میں صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے بعد ملک میں پناہ دی۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان کرتولمس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 45000 پناہ گزینوں نے سرحد پار کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption گزشتہ تین سال میں ترکی میں 800000 شامی مہاجرین نے پناہ لی ہے

انھوں نے کہا: ’دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جو بنا کسی مسئلہ کے 45000 پناہ گزینوں کو ایک رات میں نقل مکانی کرنے دینے کے بعد ان کو رہنے کے لیے جگہ بھی دے۔‘

شام کے کرد ڈیموکریٹک یونین کے سربراہ، محمد صالح مسلمان، نے جہادیوں کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی امداد کی اپیل کی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر دولت اسلامیہ کوبین کے علاقے پر قبضہ کر لیتی ہے تو اس کو شام اور ترکی کی شمالی سرحد کے ایک بڑے حصہ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

تیس ممالک نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت کے اتحاد میں شامل ہونے کا وعدہ کیا ہے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی سرزمین پر نیٹو کو ایک فضائی اڈاہ بنانے دے گا جس سے انسانی اور انتظامی کارروائیوں کی جا سکیں گی۔

غیر ملکی جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے ترکی نے مغربی ممالک سے شدید دباؤ کا سامنا کیا ہے۔

اسی بارے میں