یمن کا جنگ کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لڑائی میں یمن کی سرکاری ٹی وی کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا

مسلح شیعہ گروپ اور مقامی شدت پسند سنیوں کے درمیان مذاکرات کے باوجود یمن میں تشدد کی آگ پھر بھڑک اٹھی ہے۔ مقامی آبادی اس خوف سے بھی پریشان ہے کہ تشدد کی یہ لہر بتدریج بڑھتی جائے گی۔

دارالحکومت صنعاء میں لڑاکا جہازوں کی نیچی پروازوں سے مقامی آبادی میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مسلح شیعہ گروپ حوثی اور سنی قبائل اور شدت پسند ملییشیا کے درمیان گلی کوچوں میں جاری لڑائی پھیلنے کے خوف سے لوگ یا تو گھروں میں دبک کر رہ گئے ہیں اور یا دارالحکومت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

جمعرات اور جمعہ کو ان گروپوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

دکاندار سلیم المقبلی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور دکانیں بند ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑائی اتنی شدید اور تیز ہوتی ہے کہ بھاری اسلحے کے استعمال سے ہمارے گھر لرز جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہوتھی قبائل دارالحکومت صنعاء میں حکومت مخالف مظاہرے کر رہے ہیں

گزشتہ کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا اور ان کے حامی، صنعاء اور گردونواح میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حکومت سے مستعفٰی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے نو ستمبر تک تو پرامن تھے لیکن اسی دن سیکیورٹی فورسز نے حوثی مظاہرین پر فائرنگ کر کے سات مظاہرین کو ہلاک کر دیا۔

اٹھارہ ستمبر کو حالات پھر بگڑ گئے جب حوثی مظاہرین سرکاری ٹی وی کی عمارت کے قریب والی علاقے پر کنٹرول کرنا چاہ رہے تھے ۔جس کے نتیجے میں سنی اصلاح پارٹی کی حامی سنی ملیشیا سے انکی جھڑپ ہوئی۔

طاقت اور کنٹرول کی جنگ:

فرقہ واریت، قبائلی سیاست اور ذاتی جنگ جھگڑے، صنعاء میں جاری لڑائی کی وجوہات ہیں۔

فوجی کمانڈر جنرل علی محسن، گزشتہ دس سال سے حوثی ملیشیا کے خلاف برسریپیکار ہیں اور اس وقت سنی ملیشیاز کو متحد کر رہے ہیں۔ جنرل محسن سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قریبی حلیف رہے ہیں اور حالیہ حکومت میں کافی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

حوثی ملیشیا کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ یہ گروپ حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حوثی ملیشیا کے سیاسی دھڑے کے ممبر علی البخاتی کا کہنا ہے کہ حکومت میں مساوی حصہ ہی امن کی ضمانت ہے۔

سمجھوتہ ممکن ہے یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کےنمائندہ خصوصی قیام امن کے بارے میں پر امید ہیں

حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے گزشتہ ہفتے یمن پہنچے ہیں۔

لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حوثی ملیشیا کے مطالبات کی منظوری سے قبل صنعاء سے نکل جائے گی یا نہیں۔ حوثی ملیشیا اب اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے جس میں فائرنگ کر کے کئی مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تجزیہ کار غنی الاریانی پر امید ہیں کہ فریقین کے درمیان سمجھوتہ طے پا جائے گا جس کے بعد لڑائی ختم ہو جائے گی۔ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ شیعہ ملیشیا کے سارے لوگ دارالحکومت صنعاء چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ کیونکہ ان میں سے کچھ مقامی شیعہ بھی ہیں۔

خوف میں مبتلا یمن کے عوام اس وقت سہمے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انھیں اندازہ ہے کہ اسلحے سے لیس یمنی عوام میں اگر عراق اور شام کی طرح فرقہ واریت پر مبنی جنگ چھڑ جائے تو اس سے تباہی آ سکتی ہے۔

اسی بارے میں