ڈاکٹر اشرف غنی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہزار نو میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اشرف غنی نے امریکی شہریت ترک کر دی تھی

ڈاکٹر اشرف غنی کا نام پہلی بار سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ’لویہ جرگہ‘ کے قیام کے دوران سنا گیا۔

اس وقت ان کا شمار افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ سنہ 2002 سے سنہ 2004 تک وہ کرزئی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے لیکن حامد کرزئی کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ کابینہ سے مستعفیٰ ہو کر کابل یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشرف غنی 1949 میں لوگر صوبے کے احمدزئی قبیلے میں پیدا ہوئے

مسٹر غنی اس سے پہلے امریکہ میں بھی پڑھا چکے ہیں جب کہ ورلڈ بینک کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

اشرف غنی افغانستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد کے ’غلط‘ استعمال کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ دو ہزار سات میں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر غنی کا کہنا تھا، کہ ’جب افغان خود سکول بناتے ہیں تو اس پر پچاس ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے لیکن یہی سکول ہمارے غیر ملکی دوست ڈھائی لاکھ ڈالر میں بناتے ہیں۔‘

سنہ 2009 کے صدارتی انتخابات میں ان کی انتخابی مہم اتنی مؤثر نہ تھی اور وہ وہ چوتھے نمبر پر آئے۔ لیکن سنہ 2014 میں انھوں نے ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی اور ہر افغان صوبے میں اپنے حامیوں کا ایک مضبوط بیس قائم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انہوں نے امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے انتھرپولوجی میں ڈاکٹریٹ کی

انتخابات میں کامیابی کے باوجود حریف صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کو شراکتِ اقتدار معاہدے کے تحت ہی صدر تسلیم کیا۔ اس معاہدے کے تحت عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جس کے اختیارات وزیراعظم کے برابر ہوں گے۔

لیکن شراکت اقتدار کا یہ معاہدہ شاید اب اشرف غنی کی افغانستان میں اصلاحات لانے کی خواہش میں رکاوٹ بنے گا۔

اپنی انتخابی کمپین کے دوران اشرف غنی نے افغانستان سے کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کام ایک دن میں تو نہیں ہو گا لیکن پانچ سالوں میں افغانستان کرپشن سے پاک ملک ہو گا۔

اسی بارے میں