یوکرین میں جنگ بندی برائے نام: نیٹو جنرل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیٹو فوجی جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ یوکرین کے حالات اچھے نہیں ہیں اور جنگ بندی برائے نام ہے

نیٹو کے سینیئر ترین فوجی کمانڈر فلپ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس نواز باغیوں کے درمیان جاری جنگ بندی کا معاہدہ ’برائے نام‘ ہے۔

نیٹو فوجی کمانڈر جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جتنی بار گولہ باری ہوئی ہے وہ دو ہفتے پہلے یعنی جنگ بندی سے قبل ہونے والی گولہ باری کے برابر ہے۔

بہر حال وہ سنیچر کو ہونے والے نئے معاہدے کے بارے میں ’پر امید‘ ہیں۔

یوکرین روس پر علیحدگی پسندوں کو مسلح کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جبکہ روس اس کی تردید کرتا آیا ہے۔

اپریل سے جاری اس جنگ میں اب تک 3،000 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا تاہم اس کی بار بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔

یورپ میں نیٹو افواج کے سربراہ جنرل بریڈلو نے لتھوانیا میں نیٹو کے فوجی سربراہ سے ملاقات کے بعد یہ باتیں کہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یوکرین میں فی الحال حالات اچھے نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یورپ کے سابق صدر (درمیان میں) لیوند کچما نے جنگ بندی کا یہ منصوبہ پیش کیا

انھوں نے مزید کہا: ’گذشتہ چند روز کے دوران جس تعداد میں واقعات رونما ہوئے ہیں اور جتنے گولے اور بارود استعمال کیے گئے ہیں وہ جنگ بندی کے معاہدے سے قبل کی سطح سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ابھی بھی جنگ بندی برائے نام ہے اور زمین پر حقیقتا جو ہو رہا ہے وہ بہت مختلف ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے یوکرین میں موجود کچھ روسی فوجی روس لوٹ آئے تھے لیکن روس ’یوکرین سے مقابلے کے لیے کسی بھی وقت فوجی دستیاب کرانے کی حالت میں ہے۔‘

بالٹک ممالک سمیت روس کے پڑوسی ممالک میں نیٹو اپنی فوجی موجودگی میں اضافے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو سویت بلاک میں ہوا کرتے تھے۔

جنرل بریڈ لو نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں سنیچر کو دستخط کیے جانے والے جنگ بندی کے نو نکاتی میمورینڈم کی تعریف کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اہم نکات میں بھاری اسلحے خانے کو 15 کلومیٹر پیچھے لے جانا، جارحانہ آپریشن پر پابندی، سکیورٹی زون پر سے جنگی طیاروں کے پرواز پر پابندی، بیرونی جنگجوؤں کی واپسی وغیرہ شامل ہیں

واضح رہے کہ یہ معاہدہ گذشتہ دیر رات یوکرین، روس، مشرقی علاقے کے علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی اور تعاون کی یورپی تنظیم (او ایس سی ای) کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد طے ہوا۔

اس معاہدے میں 30 کلومیٹر کے بفر زون پر رضامندی، مشرقی یوکرین کے فضائی حدود سے فوجی طیاروں کی پرواز پر پابندی اور غیرملکی جنگجوؤں کی واپسی جیسے نکات شامل ہیں۔

بہر حال روس ہمیشہ سے یوکرین میں فوج بھیجنے یا باغیوں کو مسلح کرنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

اہم نکات میں بھاری اسلحے خانے کو 15 کلومیٹر پیچھے لے جانا، جارحانہ آپریشن پر پابندی، سکیورٹی زون پر سے جنگی طیاروں کے پرواز پر پابندی، او ایس سی ای کے مانیٹرنگ مشن کا قیام اور جنگ زدہ علاقوں سے تمام بیرونی جنگجوؤں کی واپسی شامل ہیں۔

اسی بارے میں