موساد کے مشہور جاسوس مائیک ہراری کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption میونِخ کے اولمپِکس گیمز میں اسرائیلی ایتھلیٹس کے اغوا اور ہلاکتوں میں ’بلیک ستمبر گروپ‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا

اسرائیل کے مشہور ترین جاسوسوں میں سے ایک مائیک ہراری جنہوں نےفلسطینی شدت پسندوں کے قتل سمیت متعدد اسرائیلی کارروائیوں کی نگرانی کی تھی 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مائیک ہراری نے کئی بڑے مشن سر انجام دیے جن میں اُن شدت پسندوں کو نشانہ بنانا بھی شامِل تھا جن کے بارے میں اسرائیل کا خیال تھا کہ انھوں نے 1972 کی اس کی اولمپکس کی ٹیم کا قتلِ عام کیا تھا۔

1972 میں میونِخ کے اولمپِکس گیمز میں اسرائیلی ایتھلیٹس کے اغوا اور ہلاکتوں کے لیے ’بلیک ستمبر گروپ‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

1998 میں ناروے میں کسی اور کے دھوکے میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کے الزام میں ان پر مقدمے چلایا گیا۔

اس سے پہلے 1973 میں موساد کے ایک مشتبہ ایجنٹ نے للی ہیمر قصبے میں غلطی سے مراکش کے ایک ویٹر کو گولی مار دی تھی جسے غلطی سے اولمپکس کے قتِل عام کی سازش کرنے والا سرغنہ سمجھا گیا۔

یہ ہلاکت ’خدا کے غضب‘ کے نام سے شروع کیے گئے مشن کا حصہ تھا جس کے تحت تقریباً ایک سال تک پورے یورپ میں’بلیک ستمبر گروپ‘ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مائیک نے 1976 میں یوگنڈا میں یرغمال بنائے گئے لوگوں کو رہا کرانے میں اسرائیلی کمانڈروز کی بھی بہت مدد کی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مائیک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موساد پر ان کا اثر آج تک محسوس کیا جاتا ہے اور آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔

مائیک ہراری 1927 میں تِل ابیب کے نزدیک پیدا ہوئے تھے اور انٹیلی جنس ایجنسی میں شامل ہونے سے پہلے انھوں نے اسرائیلی نیم فوجی تنظیموں کے لیے بھی کام کیا۔

اسی بارے میں