مشرقی یوکرین بفر زون کے قیام پر عمل شروع

جنگ بندی کا معاہدہ تاحال قائم ہے تاہم دونیتسک اور ماریوپل شہروں میں جھڑپیں جاری ہیں
،تصویر کا کیپشن

جنگ بندی کا معاہدہ تاحال قائم ہے تاہم دونیتسک اور ماریوپل شہروں میں جھڑپیں جاری ہیں

یوکرین میں فوج کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند باغیوں کے زیرِ قبضہ مشرقی علاقوں کی سرحد سے بھاری ہتھیار ہٹانا شروع کر دیے گئے ہیں۔

فریقین میں ایک متزلزل سی جنگ بندی کے بعد سنیچر کو بفر زون کے قیام پر اتفاق ہوا تھا۔

گو کہ جنگ بندی کا معاہدہ تاحال قائم ہے تاہم دونیتسک اور ماریوپل شہروں میں جھڑپیں جاری ہیں۔

اپریل میں دونیتسک اور لوہانسک نامی علاقوں میں شروع ہونے جھڑپوں کے بعد سے اب تک 3000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یوکرین کے پارلیمان نے گذشتہ ہفتے ایک بل کی منظوری دی تھی جس میں دونیتسک اور لوہانسک کو تین برس کے لیے خود مختاری دینے کی ضمانت دی گئی تھی تاہم بعض اراکینِ پارلیمان نے اس کی یہ کہہ مخالفت کی تھی کہ ایسا کرنا گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہو گا۔

یوکرین کی حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں فریقین نے اتفاق کیا تھا کے دونوں اپنی اپنی حدود سے بھاری ہتھیار 15 کلو میٹر تک پیچھے لے جائیں گے تاکہ 30 کلو میٹر کا ایک بفر زون قائم ہو سکے۔

،تصویر کا کیپشن

فریقین نے اتفاق کیا تھا کے دونوں اپنی اپنی حدود سے بھاری ہتھیار 15 کلو میٹر تک پیچھے لے جائیں گے تاکہ 30 کلو میٹر کا ایک بفر زون قائم ہو سکے

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے ترجمان کرنل اینڈری لیسنکو کا کہنا ہے کہ روس نواز باغیوں نے بھی اپنے ہتھیار ہٹانے شروع کیے ہے تاہم یہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہا جتنا کے توقع کی جا رہی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گولہ بارود اور بکتر بند گاڑیاں پیچھے ہٹا لی گئی ہیں لیکن باقی کے تمام یونٹس اور ہتھیار اپنی جگہ قائم رہیں گے۔

اس معاہدے کے مطابق کسی بھی جنگی جہازوں کا علاقے میں پرواز کرنا ممنوع ہے اور دونوں جانب سے غیر ملکی فوج نکل جائے گی۔

ایسا کہا جا رہا ہے کہ فریقین کی جانب سے غیر ملکی فوجی بھی لڑائی میں شریک ہیں تاہم روس کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں اگر اس کا کوئی شہری شامل ہے تو وہ ذاتی حیثیت میں ایسا کر رہا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

اس معاہدے کے مطابق کسی بھی جنگی جہازوں کا علاقے میں پرواز کرنا ممنوع ہے