’اردن میں قائم عرب بینک حماس کا مددگار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک اندازے کے مطابق ’عرب بینک‘ کے اثاثے 46 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں

امریکہ کے شہر نیویارک کی ایک عدالت نے اردن کے ’عرب بینک‘ کو فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا مددگار قرار دیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں بینک کو اسرائیل اور فلسطین میں حماس کی تقریباً دو درجن کارروائیوں کا نشانہ بننے والے افراد کو زرِ تلافی ادا کرنا ہوگا۔

ان حملوں کا نشانہ بننے والے تقریباً 300 امریکی شہریوں نے 2004 میں ’عرب بینک‘ پر دعویٰ کیا تھا۔

اس مقدمے کو امریکہ میں بہت دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا کیونکہ یہ دہشتگردی کی فنڈنگ کے معاملے پر ملک میں دائر کیا گیا پہلا دیوانی مقدمہ تھا۔

جیوری نے بینک کو ذمہ دار تو قرار دیا ہے لیکن عدالت نے زرِ تلافی کی رقم کے تعین کے لیے تاحال کوئی تاریخ نہیں دی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ’عرب بینک‘ کے اثاثے 46 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں اور وہ پہلا بینک ہے جس پر امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا ہے۔

اس مقدمے میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ عرب بینک نے جانتے بوجھتے حماس کے ارکان کے اکاؤنٹ کھولے اور دوسری انتفادہ تحریک کے دوران خودکش بمباروں کے اہلخانہ کو لاکھوں ڈالر کی ادائیگیاں کیں۔

عرب بینک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے صارفین شدت پسندی میں ملوث ہیں۔

اسی بارے میں