’اوپن موسک‘ غیر معینہ مدت کے لیے بند

مسجد گزشتہ جمعہ مقامی مسلم کمیونٹی کی تنقید کے باوجود گزشتہ جمعہ کو کھولی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

مسجد گزشتہ جمعہ مقامی مسلم کمیونٹی کی تنقید کے باوجود گزشتہ جمعہ کو کھولی گئی تھی

جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ہم جنس پرست افراد کا خیر مقدم کرنے والی پہلی مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

کیپ ٹاؤن کے کونسلر گنیف ایندرکس کا کہنا ہے مسجد اس لیے بند کی گئی کیونکہ اس کے باہر پارکنگ کے لیے کوئی خالی جگہ نہ رکھ کر میونسپل قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

مسجد مقامی مسلم کمیونٹی کی تنقید کے باوجودگذشتہ جمعہ کو کھولی گئی تھی۔

تاج ہارگے نے اس مسجد کو ’اوپن موسک‘ کا نام دیا تھا اور اس میں خواتین کو بھی امامت کے فرائض ادا کرنےکی اجازت دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قدم سے اسلامی انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

کونسلر گنیف ایندرکس نے اس بات کی تردید کی کہ مسجد کو جان بوجھ کر بند کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تاج نے عمارت کو گودام سے ایک مسجد میں تبدیل کرنے کے لیےدرخواست نہیں دی۔

گنیف نے کہا کہ: ’مسجد بنانے سے پہلے صحت اور حفاظت کے مسائل سے نمٹنا پڑھتا ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

مسجد کے دروازے ہر صنف، ہر مذہب اور ہر قسم کے جنسی میلان رکھنے والے افراد کے لیے کھلے تھے: تاج ہارگے

کیپ ٹاؤن کے قوانین کے مطابق عبادت کی جگہوں میں ہر دس عبادت گزاروں کے لیے ایک پارکنگ کی جگہ ہونی چاہیے۔ لیکن گنیف کا کہنا ہے کہ اس مسجد کے سامنے پارکنگ کی جگہ نہیں رکھی گئی۔

مسجد کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ضروری کاغذی کارروائی کے عمل کو چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

تاج نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مطابق سارے کاغذات تیار ہیں۔

کیپ ٹاؤن کے مسلمان اس نئی مسجد کے قیام پر ناراض تھے اور انھوں نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر مہم چلائی تھی جس میں تاج کو ’کافر‘ قرار دیا گیا تھا۔

تاہم تاج ہارگے کے مطابق اس قسم کی مسجد کا خیال اسلام کے خلاف نہیں۔