کیمرون روحانی ملاقات جلد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حسن روحانی اور ڈیوڈ کیمرون کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نیویارک میں ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ڈیوڈ کیمرون کسی بھی ایرانی صدر سے ملنے والے پہلے برطانوی وزیراعظم ہوں گے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نےعراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں لیکن اس بارے میں ایران کا ردعمل ابھی تک واضح نہیں۔

دونوں راہنما گذشتہ سال نومبر میں ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں لیکن یہ ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔

برطانوی حکومت نے ابھی تک تو دولت اسلامیہ کے خلاف جاری کارووائیوں کا حصہ نہیں بنی ہے لیکن برطانوی پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث اگلے ہفتے متوقع ہے۔

بی بی سی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایڈیٹر نورمن سمتھ کا کہنا ہے کہ یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دینے کے لیے اگلے چند روز میں برطانوی پارلیمنٹ کی چھٹی منسوخ کر کے اجلاس بلایا جائے۔

ایران کا ایٹمی پروگرام اور دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی:

بی بی سی کے نامہ نگار نِک برائنٹ کے خیال میں برطانیہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ایران کے ممکنہ کردار کا عندیہ دیا ہے اور ڈیوڈ کیمرون اور ایرانی صدر ملاقات میں ایران کے اس کردار پر غور و خوض کریں گے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ایرانی صدر پر زور دیں گے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت ترک کر دیں، لیکن ڈیوڈ کیمرون کے لیے یہ معرکہ سر کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔

نِک برائنٹ کے مطابق امریکہ میں ایرانی اہلکاروں نے دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں مدد کے بدلے اپنے ایٹمی پروگرام پر کام کرنے کی چھوٹ ملنے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ایران کا تعاون دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔