درخت نہ کاٹنے کے عوض مالی امداد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ لائبیریا میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی مشکل وقت میں پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے

لائبیریا افریقہ کا پہلا ایسا ملک بننے جا رہا ہے جس کو درخت نہ کاٹنے کے بدلے میں ترقیاتی امداد ملے گی۔

اس غریب مغربی افریقی ملک کو سنہ 2020 تک اپنے جنگلات کی کٹائی روکنے پر ناروے 15 کروڑ ڈالر ادا کرے گا۔

ایبولا کی وبا سے متاثرہ اس ملک کے بارے میں خدشات تھے کہ پیسے کی سخت ضرورت نے وہاں لوگوں کو مزید درخت کاٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ناروے کے حکام نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں ہونے والے ماحولیات کے بارے میں اجلاس میں بی بی سی کو دونوں ممالک کے مابین معاہدے کی تفصیلات کی تصدیق کی۔

لائبیریا کے جنگلات دیگر افریقی ممالک کے جنگلات سے چھوٹے ہیں لیکن مغربی افریقہ کے برساتی جنگلات کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً 43 فیصد لائبیریا میں پایا جاتا ہے۔

لائبیریا جنگلی حیات کے عالمی تنوع کا مرکز بھی ہے کیونکہ اس میں چمپینزی، ہاتھی اور چیتوں جیسے جانوروں کی آخری آبادیاں باقی رہ گئی ہیں۔

سنہ 2003 میں ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد لائبیریا میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی عام ہے۔

سنہ 2012 میں لائبیریا کی صدر ایلن سرلیف جانسن کو اس وقت بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب انھوں نے کمپنیوں کو ملک کے 58 فیصد برساتی جنگلات کی کٹائی کے لائسنس دے دیے تھے۔

ناروے اور لائبیریا کے درمیان معاہدے کے مطابق سنہ 2020 تک لائبیریا کو اپنے جنگلات میں سے 30 فیصد ’محفوظ علاقے‘ کی حیثیت کے تحت رکھنے ہوں گے۔

درختوں کی موجودگی کی آزادانہ تصدیق ہونے کے بعد ہی ناروے رقم ادا کرے گا۔

لائبیریا میں ماحولیاتی کارکنوں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لائبیریا میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی مشکل وقت میں پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ایبولا کی وبا سے منفی معاشی اثرات پڑے ہیں اور ناروے کا معاہدے صحیح وقت پر آیا ہے۔

اسی بارے میں