اسامہ بن لادن کے داماد کو عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ ALJAZEERA
Image caption 48 سالہ سلیمان ابو غیث نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے اعلی ترین رکن ہیں جن پر امریکہ میں مقدمہ چلایا گیا ہے

نیو یارک کی ایک عدالت نے نائن الیون کے بعد القاعدہ کے ترجمان رہنے والے اسامہ بن لادن کے داماد سلیمان ابو غیث کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

48 سالہ سلیمان ابو غیث نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے اعلی ترین رکن ہیں جن پر امریکہ میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

وہ ایک کویتی مبلغ ہیں اور انھیں گذشتہ برس اردن سے گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا تھا۔

مارچ میں سلیمان ابو غیث کو امریکیوں کے قتل کی سازش اور القاعدہ کی امداد کا قصور وار پایا گیا۔

عدالت میں دکھائی جانے والی ویڈیوز میں سلیمان ابو غیث نے امریکہ کو نہ ختم ہونے والے جہازوں کے طوفان کی دھمکی دی تھی۔

ابو غیث کا کہنا ہے کہ ان کا کردار سراسر مذہبی ہے جس میں وہ صرف مسلمانوں کو آمروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔

کویتی شہری ابو غیث اسامہ بن لادن کی سب سے بڑی بیٹی فاطمہ کے شوہر ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں نائن الیون کے حملوں کی رات اسامہ بن لادن نے ترجمان کی حثیت سے بیان دینے کو کہا تھا۔

سلیمان ابوغیث نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 11 ستمبر سنہ 2001 کی رات اسامہ بن لادن نے ایک پہاڑی علاقے میں ملاقات کے لیے ان کے پیچھے اپنا ایک اہل کار بھیجا۔

سلیمان نے کہا کہ جب ان کی ملاقات ہوئی تو اسامہ بن لادن نے ان سے کہا کہ’آپ کو معلوم ہے کہ کیا ہوا؟ ہم نے یہ کام کیا ہے۔‘ اسامہ نے سلیمان سے پوچھا کہ اب کیا ہوگا۔

سلیمان نے کہا کہ اس نے پیشگوئی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’امریکہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھےگا جب تک وہ آپ کو ہلاک نہ کر دے اور طالبان کی حکومت گرا نہ دے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انھیں گذشتہ برس اردن سے گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا تھا

اسی بارے میں