پناہ گزینوں کا بحران، ’ترکی کو فوری امداد درکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی میں دس لاکھ شامی پناہ گزین پہلے ہی موجود ہیں

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی شام کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد ترکی آنے والے ایک لاکھ 30 ہزار شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے ترکی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں ’یو این ایچ سی آر‘نے کہا ہے کہ شام میں سال 2011 سے شروع ہونے والے تنازعے کے دوران مختصر وقت میں پہلی بار پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد نے دوسرے ملک میں پناہ لی ہے۔

ایک لاکھ پناہ گزین ترکی میں، سرحد کی جزوی بندش

یو این ایچ سی آر کی ترکی میں ایلچی کیرل بیچلر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کسی بھی میزبان ملک کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سرحد پار آنے والوں کے لیے زیادہ یکجہتی اور بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے: ’صورتِ حال بدتر اور طول پکڑتی جا رہی ہے اور لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔‘

کیرل بیچلر کے مطابق اس وقت خوراک، کمبل اور خاص کر بچوں کے لیے سردی سے بچاؤ کی ضرورت ہے۔

ترکی کے ڈپٹی وزیراعظم نعمان کرتلمش کے مطابق ان کا ملک بدترین صورتِ حال کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ مزید ہزاروں پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔

’مجھے امید ہے کہ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزین نہیں آئیں گے لیکن اگر ضرورت پیش آئی تو ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں، جس میں ان لوگوں کو محفوظ مقامات اور دیگر جگہوں پر منتقل کرنا ہے۔‘

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند شام کے قصبے کوبانی کے نزدیک پہنچ رہے ہیں۔

کوبانی خطے کے صدر انور مسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ کرد جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور انھیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی ہر ممکن مدد کر رہا ہے لیکن پناہ گزینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے: اقوامِ متحدہ

انھوں نے دولت اسلامیہ پر بچوں، بزرگ شہریوں اور خواتین کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا۔

’ہمارے تمام وزرا اور عام شہریوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور ہمارے لوگوں کا حوصلہ بلند ہے اور ان کے خیال میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دی جا سکتی ہے۔‘

اس سے پہلے ترکی نے شام سے دو دن میں ایک لاکھ کرد پناہ گزینوں کی آمد کے بعد اپنی سرحد کے متعدد داخلی مقامات بند کر دیے تھے۔

یہ فیصلہ اتوار کو کرد مظاہرین اور ترک سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق جمعے سے اتوار کی شب تک ایک لاکھ شامی پناہ گزین سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کرد نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔

پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ترک حکام بھی مشکلات کا شکار ہیں اور نئے پناہ گزینوں کو پہلے سے ہی بھرے ہوئے سکولوں میں رکھا جا رہا ہے۔ ترک فوج اور کرد مظاہرین کے مابین تصادم اس وقت ہوا جب ترک سرحد کے اندر کرد مظاہرین نے آزادی کے حق میں جلوس نکالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترک فوج کرد جنگجوؤں کو شام میں داخل ہونے سے روک رہی ہے

دولتِ اسلامیہ نے حالیہ چند دنوں میں کوبانی کے نواح میں درجنوں دیہات پر قبضہ کیا ہے اور اب اس کا رخ اس کرد قصبے کی جانب ہے۔

شام میں حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اب کوبانی سے دس سے 15 کلومیٹر دور ہیں اور وہ ٹینکوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر دولت اسلامیہ کوبانی پر قبضہ کر لے تو اس کو شام اور ترکی کی شمالی سرحد کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ دنیا کے 30 ممالک نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت کے اتحاد میں شامل ہونے کا وعدہ کیا ہے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی سرزمین پر نیٹو کو ایک فضائی اڈہ بنانے کی اجازت دے گا جہاں سے انسانی اور انتظامی کارروائیاں کی جا سکیں گی۔

اسی بارے میں