یو این سربراہی اجلاس: چین کا کاربن اخراج میں کمی کا عہد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین کے نائب صدر جانگ گاؤلی نے اقوام متحدہ کے اس سربراہی اجلاس میں اپنے ملک کے موقف کو بیان کیا

چین نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سربراہی اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا پہلی دفعہ عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سنہ 2020 تک کاربن کےاخراج میں بہت حد تک کمی لائے گا۔

چین کے نائب صدر جانگ گاؤلی نے سربراہی اجلاس کو بتایا کہ ’ایک ذمے دار اور بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور اپنے قومی حالات اور حقیقی اہلیت کو دیکھتے ہوئے اس سلسلے میں بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زیادہ کوششیں کرے گا۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ہماری کوششوں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یہ چین اور امریکی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے میں دیگر ممالک کی رہنمائی کریں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں یہ سنہ 2009 کے بعد پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس تھا جو ختم ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اس سربراہی اجلاس کے میزبان تھے۔ اس اجلاس کا مقصد 120 رکن ممالک کو آئندہ سال پیرس میں ہونے والے اجلاس کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کے بارے می ںایک نئے مربوط عالمی معاہدے کے لیے قائل کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس موقعے پر نیویارک میں جلوس نکالے گئے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ لوگ اس دن کو اس لیے یاد کریں گے کہ بین الاقوامی برادری نے اس سیارے کو آئندہ نسلوں کے لیے زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے فیصلے کیے تھے

جنرل بان کی مون نے اس سربراہ اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار اتنے سارے رہنماؤں نے یکجا ہو کر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی براداری اس چیلنج کا مقابلہ کرے گی۔

بان کی مون نے کہا کہ بہت سے رہنماؤں نے اس بات کی ترویج کی ہے کہ سنہ 2020 تک کاربن کے اخراج میں کمی ہونی چاہیے۔ چین نے کہا کہ وہ جلد از جلد اپنے کاربن کے اخراج کو کم کر دے گا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ لوگ اس دن کو اس لیے یاد کریں گے کہ بین الاقوامی برادری نے اس سیارے کو آئندہ نسلوں کے لیے زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے فیصلے کیے تھے۔

اسی بارے میں