شام: ’دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی روک دی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ۔۔۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تیل کے ان کارخانوں سے شدت پسندوں کو روزانہ 20 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے

امریکی قیادت میں اتحادی ممالک نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف مسلسل تیسری رات بھی فضائی حملے جاری رکھے جن میں تیل کے 12 کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھر کرد افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام کے شمالی حصے میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کو روک دیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کی جانب سے دولت اسلامیہ پر مسلسل تیسری رات فضائی حملوں میں امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے طیاروں نے حصہ لیا۔

کارکنوں کے مطابق اس کارروائی میں دولتِ اسلامیہ کے 14 شدت پسندوں کے علاوہ پانچ عام شہری بھی مارے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تیل کے ان کارخانوں سے شدت پسندوں کو روزانہ 20 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کارخانوں پر ہونے والے حملوں کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ حملے کامیاب رہے ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد لازمی طور پر ’شدت پسندوں کو ہلاک کرنا نہیں‘ بلکہ ان تنصیبات کو تباہ کرنا ہے جن کے ذریعے دولتِ اسلامیہ کو بلیک مارکیٹ کے ذریعے آمدن ہوتی ہے۔

کرد افواج کے مطابق انھوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شامی قصبے کوبانی کے نزدیک آنے والے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عین العرب کے باہر شدید لڑائی جاری ہے اور کرد افواج کے کمانڈروں نے ایک بار پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس سے پہلے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے شامی قصبے عین العرب کا محاصرہ کر کے اردگرد کے دیہات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں ایک لاکھ 40 ہزار شامی کرد ترکی بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

شام اور ترکی کی سرحد پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ چند کرد، کرد ملیشیا کے خلاف لڑنے کے لیے اب شامی قصبے عین العرب واپس آ رہے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف تین سال قبل شروع ہونے والی لڑائی میں ایک اندازے کےمطابق 15 لاکھ افراد ترکی کی سرحد پر موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو عراق اور شام میں جاری لڑائی میں ان کے شہریوں کو شامل ہونے سے روکنے کے ایک قرار منظور کی تھی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ 40 سے زائد ممالک نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے اس کی سربراہی میں اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ’موت کے نیٹ ورک‘ کو تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی صدر اوباما نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے میں مدد کرے۔

صدر اوباما نے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے نظریے کو مسترد کر دیں۔

دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور امریکہ نے اگست سے اب تک ان کے خلاف 200 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف مہم کو وسیع کرتے ہوئے پیر کو پہلی دفعہ شام میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

اسی بارے میں