خاتون پائلٹ کی قیادت میں دولتِ اسلامیہ پر حملے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مریم المنصوری ابوظہبی میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے 2007 میں خلیفہ بن زید ایئر کالج سے گریجویشن کی

متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کی پہلی خاتون پائلٹ نے رواں ہفتے کے آغاز پر شام میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں کی قیادت کی۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے جمعرات کو خاتون پائلٹ کی حملوں میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایف 16 جنگی جہاز کی پائلٹ میجر مریم المنصوری کی شام میں فضائی حملوں میں شرکت کرنے کی افواہیں تیزی سے پھیلنا شروع ہوئیں اور اس کے بعد جمعرات کو واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے ان کی تصدیق کی۔

یوسف العتیبہ نے امریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وہ قابل اور مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں اور جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی اہل پائلٹ ہیں اور انھوں نے اس مشن کی قیادت کی۔‘

مریم المنصوری ابوظہبی میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے 2007 میں خلیفہ بن زید ایئر کالج سے گریجویشن کی تھی۔

شام میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ایک صارف نے دولتِ اسلامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کیا: ’میں جانتا ہوں کہ یہ بات آپ کے لیے بہت تلخ ہو گی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک خاتون نے آپ پر بم گرائے۔‘

سات ریاستوں پر مشتمل متحدہ عرب امارات ان پانچ عرب ممالک میں شامل ہے جنھوں نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکی اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے۔

سنہ 1971 میں وجود میں آنے والے تیل کی دولت سے مالا مال ریاست متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں تاہم اب بھی مقامی روایات مضبوط ہیں اور مرد ہی اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں۔

اسی بارے میں