مبینہ طور پر شدت پسندی کی تعلیم دینے پر مدرسہ بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption القاعدہ سے منسلک الشباب کا کہنا ہے کہ وہ صومالیہ میں کینیا کی فوج کی موجودگی اور وہاں ’مسلمانوں کو ہلاک‘ کرنے کا بدلہ لے رہی ہے

کینیا میں حکام نے ایک دینی مدرسے کو شدت پسند اسلامی نظریات کی تعلیم دینے کی پاداش میں بند کر دیا ہے۔

یہ مدرسہ نیروبی کے مشرق میں 65 کلو میٹر کے فاصلے پر ماچاکوس میں واقع ہے جسے مقامی نوجوانوں کو صومالیہ میں شدت پسندوں کے ساتھ شامل ہونے کے شعبے میں گرفتار کرنے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔

کینیا میں یہ پہلا دینی مدرسہ ہے جسے مبینہ طور پر شدت پسندی کی ترغیب دینے کے الزام میں بند کیا گیا ہے۔ ایک پولیس سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ دیگر مدارس کو بھی ہدف بنایا جائے گا۔

صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے کینیا میں سلسلہ وار حملے کیے ہیں۔

القاعدہ سے منسلک الشباب کا کہنا ہے کہ وہ صومالیہ میں کینیا کی فوج کی موجودگی اور وہاں ’مسلمانوں کو ہلاک‘ کرنے کا بدلہ لے رہی ہے۔

تقربیاً ایک سال پہلے الشباب کی طرف سے نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ پر قبضہ کرنے کے دوران 67 افراد ہلاک ہوئے۔

کینیا کے وزارتِ داخلہ کے ترجمان میوندہ نجوکا نے بی بی سی کو بتایا کہ دارالارشاد سینٹر کو پولیس، سی آئی ڈی، انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلی جنس یونٹوں کے مشورہ پر بند کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ماچاکوس میں 21 نوجوانوں کو الشباب کے لیے بھرتی کرنے کے شعبے میں گرفتاری کے بعد مدرسے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ پولیس نے اس کے بعد جب دیگر چھاپوں کے دوران گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کی چھان بین کی تو وہ اس مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔

نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ عابدی کا کہنا ہے کہ ماچاکوس ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور جو حملوں کی زد میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں