دولتِ اسلامیہ کے تیل کے کارخانوں پر امریکی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ۔۔۔ شام میں بجلی کے تقریباً تمام پاور سٹیشن حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہیں، اس لیے یہ تمام فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ وہ گیس اور بجلی کی فراہمی کے نظام کی حفاظت کریں

امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام کے مطابق امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جیٹ طیاروں اور ڈرونز نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیر انتظام علاقوں میں تیل کے کئی چھوٹے کارخانوں کو نشانہ بنایا۔

ان کارخانوں سے دولتِ اسلامیہ کو تیل حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ سے انھیں روزانہ 20 لاکھ ڈالر ملتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے ان کارخانوں کو تباہ کرنا امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی وسیع تر حکمتِ عملی کا واضح حصہ ہے۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق نشانہ بنائے گئے یہ کارخانے روزانہ 300 سے 500 بیرل کے درمیان تیل صاف کرتے تھے۔ یہ کارخانے وادی فرات کے جنوبی حصے میدین اور ابو کمال اور شمال مشرقی صوبہ حسکہ کے علاقے الحول میں واقع تھے۔

جون میں عراق اور شام میں ڈرامائی حملوں کے دوران دولت اسلامیہ نے بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے گذشہ دو سالوں کی خانہ جنگی میں ترک کیے گئے زیادہ تر تیل کے کارخانوں پر قبضہ کر لیا۔

وادی فرات میں تیل کے ان قیمتی کنووں کو اینگلو ڈچ کمپنی شیل اور فرانس کی کمپنی ٹوٹل چلا رہی تھیں۔ تیل کے یہ ذخائر ہلکا تیل پیدا کرتے ہیں جس کی صفائی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ دولتِ اسلامیہ کی طاقت میں آنے سے پہلے القاعدہ سے منسلق النصریٰ فرنٹ کا ان ذخائر پر قبضہ تھا۔

تاہم گذشتہ کئی سالوں سے وادی فرات کے ان ذخائر سے تیل کی پیداوار میں رفتہ رفتہ کمی آتی رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے صوبہ حسکہ کے جنوب میں واقع کئی تیل کے ذخائر پر بھی کنٹرول حاصل کیا ہے۔ ان ذخائر کو شامی کی پیٹرولیئم کی سرکاری کمپنی سیریئن پیٹرولیئم کمپنی ایس پی سی چلا رہی تھی۔

تاہم شام کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر بشمول سوادیہ اور ریومیلان حسکہ کے جنوب میں کرد گروپوں کے زیر قبضہ علاقے میں واقع ہیں جہاں حکومت کی عمل داری برائے نام ہے۔

ان ذخائر سے محدود مقدار میں اتنا تیل برآمد ہوتا ہے جن سے مقامی طور پر تیل کی مانگ پوری ہوتی ہے۔

حسکہ سے مرکزی شام اور ساحل تک جانے والی مرکزی پائپ لائن گذشتہ دو سالوں سے منقطع ہے۔ شام سنہ 2011 میں یومیہ 385000 بیرل تیل پیدا کرتا تھا جس میں 55 فیصد تیل شمال مشرق میں ایس پی سی کے زیرِ انتظام ذخائر سے میسر ہوتا تھا۔ ایس پی ایس کے ذخائر سے برآمد ہونے والے تیل کو صاف کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

سینٹ کام کی طرف سے جاری بیان میں ملک کے شمال میں مانبی جی اور تل عبید میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذکر نہیں ہے۔ یہ علاقے گذشتہ دو سالوں کے دوران تیل صاف کرنے، تجارت اور تیل کی سمگلنگ کے مرکز کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

اس سے ایسا لگتا ہے کہ باجی میں تیل کا کارخانہ بند ہونے کے بعد دولتِ اسلامیہ نے عراق میں اپنی کارروائیوں کے لیے تیل حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کئی مہینوں سے اس کارخانے پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن انھیں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

مخالفین کے درمیان روابط

شام کے ذخائر سے سمگل ہونے والا زیادہ تر تیل ترکی میں تاجروں کو فروخت کیا جاتا ہے اور ترکی کے بازاروں میں لایا جاتا ہے۔

ایسی مسلسل اطلاعات ہیں کہ بشارالاسد کی حکومت اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان تیل کی تجارت ہوئی ہے، لیکن شامی حکومت تیل کے لیے زیادہ تر انحصار بحیرۂ روم اور بیروت سے بانیا میں تیل صاف کرنے کے کارخانے کو مہیا کیے جانے والے تیل پر کرتی ہے۔

بانیا میں کارخانے کو اوسطاً روزانہ دس لاکھ بیرل تیل فراہم کیا جاتا ہے جو ایران بطورِ قرض فراہم کرتا ہے۔ روئٹرز کی جانب سے گذشتہ سال کی گئی تحقیقات کے مطابق اس میں ایران کا بھاری خام تیل اور عراق کے بصرہ کا ہلکا تیل شامل ہے۔

بشارالاسد کی حکومت اور باغی گروپوں بشمول دولتِ اسلامیہ کے درمیان گیس اور بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے لیے کچھ رابطے رہے ہیں۔

شام میں قدرتی گیس کے زیادہ تر ذخائر حلب اور پالمیرا میں ہیں جو زیادہ تر حکومت کے کنٹرول والے علاقے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں بجلی کے تقریباً تمام پاور سٹیشن حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہیں، اس لیے یہ تمام فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ وہ گیس اور بجلی کی فراہمی کے نظام کی حفاظت کریں۔

صرف ایک ہی دفعہ ایسا ہوا ہے جب دولتِ اسلامیہ نے حلب کے مشرق میں السحر گیس کمپلیکس پر حملہ کیا جسے حکومتی فورسز نے پسپا کیا۔

امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو امید ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں قائم کم پیداوار والے کارخانوں پر حملہ کر کے اس گروپ کی صلاحیت کم کر سکیں گے۔

تاہم گیس اور تیل کے زیرِ زمین ذخائر پر حملے متنازع ہوں گے اور انھیں شام کے وسائل پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں