محمود عباس کا اسرائیل پر ’نسل کشی‘ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلسطینی صدر محمود عباس نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کی آزادی کا وقت قریب آ گیا ہے

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر غزہ میں ’نسل کشی‘ کا الزام لگایا ہے۔

محمود عباس نے کہا غزہ میں ’جنگی جرائم‘ کے لیے اسرائیل کو سزا دی جانی چاہیے اور وہ اس معاملے کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔

ان کی تقریر کی اسرائیل اور امریکہ نے سخت مذمت کی ہے اور اسے اشتعال انگیزی کے مترادف قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں حال ہی میں 50 دن تک جاری رہنے والی لڑائی میں تقریبا 2100 فلسطینی اور 73 اسرائیلی مارے گئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے محمود عباس کو سیاسی طور پر کمزور کر دیا ہے کیونکہ غزہ میں ان کے مخالف گروپ حماس کی مقبولیت میں اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مرنے والے زیادہ تر فلسطینی باشندے عام شہری تھے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اکثر شہریوں کی ہلاکت حماس جنگجوؤں کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ انھوں نے مسجدوں اور مدرسوں کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں سے حملے جاری کیے ہوئے تھے جس کے جواب میں وہاں حملہ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 50 دنوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں تقریبا 2100 فلسطینی اور 73 اسرائیلی مارے گئے تھے

اس ماہ کے اوائل میں اسرائیل نے پانچ شہریوں کی موت کے سلسلے میں مجرمانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ مجموعی طور پر یہ 100 واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے نقصانات پہلے ہونے والی کسی بھی جنگ سے زیادہ ہیں۔

انھوں نے نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’غزہ کے خلاف یہ جنگ قطعی طور پر جنگی جرائم کا ایک سلسلہ تھا جو لمحہ بہ لمحہ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیے لوٹنا ’ناممکن‘ ہے کیونکہ ان کے مطابق اسرائیل نے بنیادی سوال کا تدارک نہیں کیا۔

Image caption فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے نقصانات پہلے ہونے والی کسی بھی جنگ سے زیادہ ہیں

اسرائیلی وزیر خارجہ اویغدور لیبرمین نے کہا کہ ’یہ جھوٹ پر مبنی اشتعال انگیز تقریر تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ محمود عباس کے بیان نے ’ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ وہ معقول سفارتی معاہدے میں نہ شریک ہونا چاہتے ہیں اور نہ شریک ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے فلسطینی رہنما پر ’سفارتی دہشت گردی کا الزام تک لگا دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر عباس کی تقریر میں ’جارحانہ کردار کشی تھی اور یہ بہت افسوسناک ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس طرح کے اشتعال انگزیز بیانات نقصان دہ ہوتے ہیں اور مثبت حالات پیدا کرنے کی کوششوں اور طرفین میں اعتماد کی بحالی کو زک پہنچاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں