ایبولا وائرس سے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک تحقیق کے مطابق نومبر تک ایبولا وائرس کے متاثرین کی تعداد بیس ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں ساڑھے اٹھارہ سو افراد صرف لائیبیریا میں ہلاک ہوئے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے اب تک ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد متاثر ہو ئے ہیں۔ اس بارے میں کی گئی تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں سال نومبر تک ایبولا وائرس کے متاثرین کی تعداد بیس ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔

ایبولا اب تک سب سے جان لیوا وائرس ثابت ہوا ہے اور امریکی صدر براک اوباما نے اسے عالمی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔

ایک رپورٹ میں ایبولا وائرس کا علاج کرنے والے ماہرین کے بھی وائرس میں مبتلا ہونے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اب تک 375 ماہرین ایبولا وائرس کا شکار بن چکے ہیں جن میں سے 211 ہلاک ہو چکے ہیں۔

وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں نے افریقی ممالک میں موجود صحت کی خراب سہولیات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ لائیبیریا کے ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش انتہائی کم ہے۔

امریکہ نے لائیبیریا میں صحت کی ہنگامی سہولیات فراہم کرنے اور وائرس کی روک تھام کے لیے، حال ہی میں تین ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

سیرالیون میں گزشتہ ہفتے ایبولا کو کنٹرول کرنے کے لیے تین روزہ کرفیو کا نفاذ کیا گیا تھا۔ اس دوران حکام نے دس لاکھ خاندانوں کا سروے کیا اور ایبولا کے 130 نئے کیسز کا پتہ چلایا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اباما کا کہنا تھا کہ ایبولا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے جو کہ اب تک نہیں کئے گئے۔

اسی بارے میں