امریکہ میں گجرات فسادات کی گونج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بش انتظامیہ نے مودی کو سنہ 2005 میں ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا

بھارت کے قوم پرست وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف سنہ 2002 کے گجرات فسادات میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت امریکہ میں مقدمہ قائم کیا جانا دورۂ امریکہ کے موقع پر انھیں زیادہ سے زیادہ شرمندہ کرنے کی کوشش تھا۔

امریکی حکام یہ تو واضح کر چکے ہیں کہ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے انھیں امریکی سر زمین پر استثنٰی حاصل ہے لہٰذا یہ مقدمہ صرف نریندر مودی کے لیے باعثِ جھنجھلاہٹ ہوگا۔

مودی سے قبل ان کی سب سے بڑی سیاسی مخالف سونیا گاندھی بھی امریکہ میں سنہ 1984 میں دہلی میں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کے مقدمے کا نشانہ بن چکی ہیں۔

کانگریس کی رہنما پر مقدمہ اسی امریکی وکیل نے کیا تھا جس نے مودی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ سونیا گاندھی کے خلاف یہ مقدمہ رواں برس کے آغاز میں ختم ہو گیا تھا۔

گو کہ اس قسم کے مقدمات ان رہنماؤں کے لیے فوری قانونی خطرہ نہیں ہیں لیکن انصاف کے حصول کے لیے ایسے مواقع متنازع عالمی رہنماؤں کو چوکس رکھتے ہیں۔

نریندر مودی کے لیے یہ ایک یاددہانی ہے کہ مئی میں ہونے والے انتخابات میں واضح فتح کے بعد بھی سنہ 2002 میں گجرات کے وزیرِ اعلٰی کی حیثیت سے ان کے افعال پر اٹھنے والے سوالات اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

اس خیال سے کہ یہ مقدمہ موودی کے امریکہ کے دورے کو متاثر نہ کرے بھارتی میڈیا مقدمے کو ایک معتدل سی کوریج دے رہا ہے۔

نریندر مودی پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2002 میں گجرات کے ہندؤں کے جانب سے بلوے کے دوران نگاہیں چرائے رکھیں۔

یہ ہنگامے ہندو یاتریوں کو لے جانے والی ٹرین کو آگ لگنے کے بعد شروع ہوئے تھے جس میں 59 یاتری ہلاک ہوئے۔ واقعے کے بعد پیدا ہونے والے کشیدگی اور تشدد میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ بش انتظامیہ نے انھیں سنہ 2005 میں ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان پر یہ پابندی اس قانون کے تحت عائد کی گئی تھی جس کے مطابق ان حکومتی اہلکاروں کا امریکہ میں داخلہ ممنوع ہے جو ’مذہبی آزادی کی خلاف ورزی‘ کے ذمہ دار ہو۔

اوباما انتظامیہ اور مودی دونوں ہی اس تنازع کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اصولی طور پر پابندی اب بھی برقرار ہے اور وہ امریکہ صرف ایک سربراہ مملکت کی حیثیت سے آسکے ہیں کیونکہ انھیں اس کے لیے ویزا مل سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے مسلم مخالف واقعات پر مودی کی خاموشی واضح ہے

مودی کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک جعلی مہم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عدالتیں یہ فیصلہ سنا چکی ہیں کہ مودی کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔

لیکن دوسری جانب اس فیصلے کے لیے کی جانے والے تحقیقات پر بھی شبہات قائم ہیں اور مودی کے گجرات کی کابینہ کے ایک سابق وزیر پر فسادات کے دوران قتلِ عام کے ایک بدترین واقعے کو بڑھاوا دینے کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا ہندو قوم پرست ماضی اور مسلم مخالف مقرر ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ سنہ 2002 میں ہونے والے قتلِ عام پر افسوس کا اظہار کرنے سے انکار ان شبہات کو ہوا دیتا ہے کہ مکمل سچ اب بھی ان کہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے مسلم مخالف واقعات پر مودی کی خاموشی واضح ہے۔

ان کے سی این این کو حال میں دیے گئے اس بیان ’بھارتی مسلمان بھارت کے لیے جیئیں گے اور بھارت کے لیے مریں گے‘ کو بعض لوگوں نے خود پر تنقید کا درپردہ جواب قرار دیا ہے۔ وہیں کچھ لوگوں نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلمانوں کو مودی سے وفاداری کی سند کیوں چاہیے۔‘

مودی کی اتحادی حکومت کی جماعت این ڈی اے کے ایک مسلمان رکنِ پارلیمان نے کہا ہے کہ ’بھارت کی مسلمان اقلیت کے خلاف کھلے عام نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔‘

وزیرِ اعظم بننے کے بعد مودی نے وعدہ کیا تھا کے وہ ایک ایسا بھارت بنائیں گے جس میں سب شامل ہوں گے۔

لیکن جہاں ایک طرف امریکہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے خلاف لڑائی کے لیے مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مصروف ہے وہیں مودی اس کے لیے ایک متنازع اتحادی نہ ثابت ہوں۔

اسی بارے میں