’عراق اور شام میں زمینی کارروائی بھی ضروری ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔۔’شام میں زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے 15 ہزار تک لوگوں کی ضرورت ہو گی‘

امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں سے اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا بنیادی ڈھانچہ ختم ہونا شروع ہو گیا ہے لیکن خبردار کیا کہ تنظیم کو شکست دینے کے لیے فضائی طاقت ناکافی ہو گی۔

جنرل ڈیمپسی کے مطابق مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے اور شام، عراق میں زمینی کارروائی کی ضرورت پڑے گی۔

انھوں نے کہا کہ شام میں بہتر ہو گا کہ یہ ذمہ داری اعتدال پسند حزب اختلاف کے پاس ہونی چاہیے۔

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ شام میں زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے 15 ہزار تک لوگوں کی ضرورت ہو گی اور ان لوگوں کی تربیت میں وقت لگے گا۔

دوسری جانب برطانوی پارلیمان نے اکثریت رائے سے عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں فضائی حلموں میں شامل ہونے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اگرچہ برطانوی حکومت منظوری کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن اس میں سب سے بڑا چیلنج ممکنہ طور پر ایک طویل مہم میں حمایت کا برقرار رکھنا ہے۔

کوبانی کے لیے جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کی کوبانی کی جانب پیش قدمی کے بعد وہاں سے چند دنوں کے دوران ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد پناہ گزین ترکی پہنچے تھے۔

شام میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی ترکی کی سرحد سے متصل شمالی شہر کوبانی کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔

دولت اسلامیہ کو کوبانی میں کرد جنگجوؤں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ کوبانی کے حصول کے لیے ہونے والی لڑائی کے آثار کو ترکی کی سرحد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

ترکی میں موجود پناہ گزینوں نے سرحد پر نصب رکاؤٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنے علاقے کے دفاع کے لیے جا سکیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی شام کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد ترکی آنے والے ایک لاکھ 30 ہزار شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے ترکی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

کوبانی کی جانب پیش قدمی کے بعد وہاں سے چند دنوں کے دوران ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد پناہ گزین ترکی پہنچے تھے۔

مغربی ممالک کے دولتِ اسلامیہ پر حملے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption ۔۔۔ شام اور عراق میں فضائی بمباری لڑاکا طیاروں، بغیر پائلٹ والے ڈرون طیارے اور میزائلوں کے ذریعے بھی کی گئی ہے

امریکی فوج کی قیادت میں شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی چوتھی شب چار ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ ایک کو ناکارہ بنا دیا۔

امریکی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ عراق کے اندر دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری میں سات مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں بغداد کے قریب بھی ایک جگہ شامل ہے۔

ڈنمارک کی حکومت نے کہا کہ ہے وہ بھی اپنی فضائیہ کے سات ایف سولہ طیارہ عراق کے اندر دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے بھیج رہا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو شمال مشرقی شام کے بیشتر علاقوں پر قابض ہیں اور اس سال کے اوائل میں انھوں نے عراق کے بھی ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل تھا۔

شام میں جاری اس لڑائی سے بچنے کے لیے لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔امریکی فضائی کارروائی سے قبل جنگجوؤں نے تین مغربی مغویوں کے سر قلم کر دیے تھے۔

کچھ مغربی ممالک شام میں فضائی کارروائیوں کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ عراق کے برعکس شام کی حکومت کی طرف سے غیر ملکی طاقتوں کو فضائی کارروائیاں کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

شام اور عراق میں فضائی بمباری لڑاکا طیاروں، بغیر پائلٹ والے ڈرون طیارے اور میزائلوں کے ذریعے بھی کی گئی ہے۔

حالیہ بمباری میں دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں تیل کی تنصیبات اور کنوؤں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ دولت اسلامیہ کے مالی وسائل حاصل کرنے کے ذرائع کو ختم کیا جا سکے۔

قبل ازیں یورپیں یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یورپ سے تقریباً تین ہزار لوگ دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے عراق اور شام گئے ہیں۔

اسی بارے میں