’امریکی فضائی کارروائیاں اسلام کے خلاف جنگ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ ممالک ہولناک عمل کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہادیوں کی لسٹ میں آ گئے ہیں‘

شام میں حکومت کے خلاف برسرِ پیکار النصرہ گروپ نے امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسلام کے خلاف جنگ‘ قرار دیا ہے۔

القاعدہ سے منسلک النصرہ گروپ نے آن لائن پیغام میں دنیا میں تمام جہادیوں سے کہا ہے کہ وہ مغربی اور عرب ممالک کے اہداف کو نشانہ بنائیں۔

النصرہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اتحادیوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراق اور شام میں فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔

النصرہ کے ترجمان ابو فراس السوری نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو متنبہ کیا۔

انھوں نے کہا ’یہ ممالک ہولناک عمل کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہادیوں کی لسٹ میں آ گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ان کی ممالک کی یہ جنگ النصرہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ جنگ اسلام کے خلاف ہے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں خراسان نامی ایک نئے گروپ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ امریکہ نے یہ نہیں کہا کہ فضائی حملوں میں النصرہ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خراسان نامی نیا گروہ النصرہ فرنٹ کا حصہ ہے۔

دوسری جانب دولتِ اسلامیہ نے دنیا بھر میں جہادیوں سے کہا ہے کہ اتحادی ممالک کو نشانہ بنائیں۔

تاہم شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے فری سیریئن آرمی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے فضائی حملوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان حملوں میں شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

اس سے قبل ترکی کی سرحد کے قریب شامی قصبے کوبانے کا محاصرہ کیے ہوئے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال وُڈ کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے جمعے کو رات بھر چکر لگاتے رہے اور پھر سنیچر کو صبح سویرے کوبانے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

تاہم امریکی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں میں مصروف اتحادی افواج نے ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا ان کے طیارے کوبانے کے علاقے میں بھی فضائی حملے کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کرد جنگجو کوبانے پر دولتِ اسلامیہ کی چڑھائی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

ترکی اور شام کی درمیانی سرحد کے قریب واقع یہ قصبہ گزشتہ ایک ہفتے سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مرکزی مقام بن چکا ہے۔

اب تک کوبانے اور اس کے گرد ونواح سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار لوگ ہجرت کر کے محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

یہاں سے جان بچا کر نکلنے والے کُرد لوگ سرحد کی دوسری جانب ترکی میں پناہ لے چکے ہیں۔

سرحدی دیہاتوں سے نامہ نگار مارک لوون نے بتایا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کُرد شہریوں کی نقل مکانی کی وجہ سے سرحد پر تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور ترک فوجی شامی اور کُرد شہریوں کو سرحد عبور کرنے سے روک رہے ہیں۔

کوبانے کے علاوہ شام کے ایک دوسرے قصبے مِنبج اور مشہور شہر رقّہ سے بھی اتحادی فوجوں کے فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو رقّہ کو اپنے مضبوط قلعے اور ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں