شمالی کوریا: موبائل کے استعمال کی سرکاری ہدایات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا میں موبائل فون سروس سنہ 2008 میں شروع کی گئی تھی اور اب وہاں 20 لاکھ سے زیادہ موبائل صارفین ہیں

شمالی کوریا میں موبائل فونز کی مقبولیت اور اس کے استعمال میں اضافے کے بعد سرکاری ذرائع ابلاغ پر موبائل فونز کے استعمال کے بارے میں ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی يون ہاپ نے ایک سہ ماہی ثقافتی جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ ’موبائل فون کے استعمال میں اضافے سے کچھ لوگوں میں فون کے استعمال کے آداب پر عمل نہ کرنے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔‘

اسی مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’فون پر زور زور سے بات کرنا‘ اور ’عوامی مقامات پر بات کرتے وقت بحث کرنا‘ غیرمناسب رویوں میں شامل ہیں۔

مضمون میں لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ موبائل پر کال کرنے والے کا نمبر آ رہا ہوتا ہے لیکن غیرضروری بات چیت سے پرہیز کے لیے لوگ لینڈ لائن فون پر بات کرنے کے آداب کی طرح موبائل فون کال پر بھی پہلے اپنا تعارف کروائیں۔

مصنف کے مطابق ایسا کرنے سے کال کے دوران مخاطب کا نام پوچھنے کے غیرضروری عمل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

اس کے علاوہ جریدے کے مطابق کال سننے والا شخص اگر کال کرنے والے کو پہلے اس کے نام سے مخاطب کر لے تو کال کرنے والے کو شناخت کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا پڑے گا۔

جریدے نے کہا ہے کہ عوام سے کہا گیا ہے کہ غیر ضروری بات چیت کے بجائے لوگوں کو کوئی بھی کال ریسيو کرتے وقت پہلے اپنا تعارف کرانا چاہیے اور کال کرنے والے کو اگر آپ جانتے ہیں تو فوراً ان کو بتا دیں تاکہ وہ بھی اپنا تعارف کروانے سے بچ جائیں.

شمالی کوریا میں موبائل فون سروس سنہ 2008 میں شروع کی گئی تھی اور اب وہاں 20 لاکھ سے زیادہ موبائل صارفین ہیں۔

تاہم ان صارفین کو بیرونِ ملک فون کرنے کی اجازت نہیں ہے اور موبائل استعمال کرنے والے زیادہ تر لوگ سماج کے امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔